علما کا رول اسلام میں
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لفظ سے کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عباس کی بابت دعائیہ طور پر فرمایا تھا : اللھم علمہ الدین و فقھہ فی التاویل۔ اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے : ای فھمہ تاویلہ ومعناہ۔ لسان العرب میں الازھری کا یہ قول نقل کیا گیا ہے : فقال لي رجل من كلاب وهو يصف لي شيئاً فلما فرغ عن كلامه قال أَفَقَهْتَ - يريد أَفَهِمْتَ - قبیلہ کلاب کا ایک شخص مجھ کو ایک بات بتا رہا تھا۔ جب وہ اپنی بات کہہ کر فارغ ہوا تو اس نے کہا افقهت۔ اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ کیا تم نے سمجھ لیا۔ لسان العرب کا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : في حديث سلمان - انه نزل على نَبَطِيَّةٍ بالعراق - فقال لها - هل هنا مكان نظيف أصلي فيه - فقالت طهر قلبك وصل حيث شئت - فقال سلمان : فَقِهِتُ أي فهمت وفطنت للحق - (لسان العرب ۵۲۲/۱۳) کے اس مقالے سے لیا گیا ہے : حدیث سلمان میں ہے ۔ وہ عراق میں ایک نبطی عورت کے یہاں ٹھہرے۔ انھوں نے عورت سے کہا۔ کیا یہاں کوئی صاف جگہ ہے جہاں میں نماز پڑھوں۔ عورت نے کہا کہ اپنے دل کو پاک رکھو اور پھر جہاں چاہے نماز پڑھو۔ یہ واقعہ بتا کر سلمان نے کہا کہ فقہت ۔ یعنی وہ عورت سمجھ گئی ، اس نے حق کا ادراک کر لیا۔ اہل لغت کی اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہ کا مطلب فہم اور بصیرت اور ادراک ہے۔ اس سے مراد وہ جاننا ہے جو معرفت کے درجہ تک پہنچ جائے ۔ جو آدمی کو شناسائے حقیقت بنا دے۔ صرف عالم ہونا فقیہ ہونا نہیں ہے۔ فقیہ وہ ہے جو عالم ہونے کے ساتھ عارف بھی ہو۔ دائرہ عمل کی تقسیم اب مذکورہ آیت کو لیجئے۔ تفسیروں کے مطالعہ سے اس آیت کا جو پس منظر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ غزوہ تبوک (۹ھ) میں مدینہ کے کچھ مسلمان نہیں جا سکے تھے۔ ان متخلفین کے بارہ میں قرآن میں سخت آیتیں اتریں۔ اس کے بعد لوگوں کا حال یہ ہوا کہ بعض سرایا پیش آئے تو اس میں مدینہ کے تمام اہل ایمان چلے گئے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم دین سیکھنے کے لیے کوئی آدمی شہر میں باقی ۔۔۔ اور اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے، جیسے کچھ سوچ رہے ہوں۔ اس کے بعد وہ خاموش ہو گیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader