Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

جائے۔ مولانا محمد میاں نے ان کی بات سننے کے بعد کہا کہ اگر تم میرا مشورہ مانو تو میں تم کو ایک اور زیادہ بہتر کام بتاتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ دیکھو، یہ ہماچل پردیش کے ایک گاؤں سے خط آیا ہے کہ یہاں ایک عالم بھیجیے۔ میری رائے ہے کہ تم وہاں چلے جاؤ۔ مولانا ممتاز احمد قاسمی اللہ کے بھروسہ پر روانہ ہوگئے۔ یہ شملہ کے قریب ایک گاؤں تھا۔ وہاں کی مسجد میں آ کر وہ مقیم ہوگئے۔ مگر شروع میں یہ حال تھا کہ اتنے مسلمان نہیں ملتے تھے کہ باجماعت نماز قائم ہوسکے۔ ایک روز جمعہ کا دن تھا۔ مسجد میں صرف دو آدمی تھے۔ تیسرے کی تلاش میں وہ باہر نکلے۔ ایک جاہل مسلمان گھاس کا گٹھڑ باندھ کر کھڑا ہوا تھا۔ مولانا ممتاز صاحب نے اس سے مسجد چلنے کے لیے کہا۔ اس نے کہا کہ تم مولویوں کو اور تو کوئی کام نہیں۔ پھر وہ بولا کہ اگر تم میرا یہ گھاس کا گٹھڑ اٹھالو تو میں تمہارے ساتھ مسجد چلنے کے لیے تیار ہوں۔ مولانا ممتاز صاحب نے فوراً دونوں ہاتھوں سے گھاس کا گٹھڑ اٹھا کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ اب وہ دیہاتی مسلمان مسکرانے لگا اور مسجد میں آ کر نماز میں شریک ہوگیا۔ آج یہ گاؤں کافی ترقی کر چکا ہے۔ اب وہاں نہ صرف مدرسہ اور مسجد آباد ہیں، بلکہ وہاں کے مسلمان تعلیم اور اقتصادیات میں بھی کافی آگے بڑھ چکے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد مولانا ممتاز صاحب شملہ منتقل ہوگئے۔ (شملہ کا سفر، اسفار ہند) صحیح سبق حضرت شفیق بلخی اور حضرت ابراہیم ادہم دونوں ہم زمانہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار شفیق بلخی اپنے دوست ابراہیم ادہم کے پاس آئے اور کہا کہ میں ایک تجارتی سفر پر جارہا ہوں۔ سوچا کہ جانے سے پہلے آپ سے ملاقات کرلوں۔ کیوں کہ اندازہ ہے کہ سفر میں کئی مہینے لگ جائیں گے۔ اس ملاقات کے چند دن بعد حضرت ابراہیم ادہم نے دیکھا کہ شفیق بلخی دوبارہ مسجد میں موجود ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ تم سفر سے اتنی جلدی کیسے لوٹ آئے۔ شفیق بلخی نے بتایا کہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page