Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

ترجمے کیے ۔ یہ زبانیں مسلمانوں کی زبانیں تھیں ۔ مگر دوسری زبانوں میں قرآن کے ترجمے عرصہ دراز تک صرف غیر مسلم کرتے رہے ۔ لاطینی زبان میں پہلا ترجمہ 1143 میں کیا گیا۔ یہ ترجمہ ایک عیسائی پادری نے کیا۔ اسی طرح اطالوی ، جرمن ، ڈچ ، فرانسیسی وغیرہ زبان میں بھی ابتدائی ترجمے عیسائیوں اور یہودیوں نے کیے۔ انگریزی میں بھی پہلا ترجمہ الگزینڈر راس نے کیا ، وغیرہ۔ عیسائیوں کے بعد انگریزی میں جس شخص نے پہلا ترجمہ کیا وہ ایک قادیانی تھا۔ بعد کو دوسرے کچھ مسلمانوں کے ترجمے شائع ہوئے۔ زیادہ تر اس جذبہ کے تحت کہ دوسروں نے غلط ترجمہ کیا ہے ، اس کو صحیح کیا جائے ۔ اس کی وجہ مسلمانوں میں دعوتی ذہن نہ ہونا ہے۔ ہمارے علما و مفسرین زیادہ سے زیادہ یہ سوچ سکے کہ غیر عربی داں مسلمانوں کے لیے قرآن کا ترجمہ تیار کریں ۔ یہ بات ان کے ذہنی دائرہ سے باہر رہی کہ غیر مسلم اقوام کے لیے ان کی اپنی زبانوں میں قرآن کے ترجمے تیار کر کے شائع کیے جائیں تا کہ وہ اسلام سے واقف ہوں ۔ ( ڈائری ، 30 ستمبر 1984) ایک عالم دین کی قربانی 1947 ء کے بعد ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش اور راجستھان کے علاقہ میں مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تھے۔ اس وقت مسلمانوں کو دوبارہ اس علاقہ میں جمانے کے لیے سب سے زیادہ جس نے کام کیا وہ بلاشبہ جمعیۃ علما ہند ہے۔ یہ کام کس طرح انجام دیا گیا، اس کی ایک مثال مولانا ممتاز احمد قاسمی ہیں۔ 1963 ء میں دارالعلوم سے فراغت کے بعد انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ طب کی تعلیم حاصل کریں۔ چنانچہ وہ دہلی آ کر مولانا محمد میاں صاحب سے ملے۔ وہ چاہتے تھے کہ مولانا محمد میاں ان کے لیے حکیم عبد الحمید صاحب کے نام ایک سفارشی خط لکھ دیں تاکہ طبیہ کالج میں آسانی سے ان کا داخلہ ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page