Urdu book · علما اور دینی مدارس

شکر کا موقع

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

شکر کا موقع ایک مسلمان عالم ہیں ۔ وہ ایک دینی مدرسہ چلاتے ہیں ۔ انہوں نے ایک عرب ملک کو مالی امداد کی درخواست دی تھی۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ان کی درخواست منظور ہوگئی اور رقم دہلی کے مذکورہ عربی سفارتخانہ میں بھیج دی گئی۔ وہ دہلی آ کر اپنی رقم لے گئے ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ جیسے ہزاروں لوگ اس طرح کی امداد وصول کر رہے ہیں ۔ کچھ وہ لوگ جو بڑی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، وہ اس سے بھی زیادہ بڑے موقع پر ہیں ۔ مگر میرے علم میں کوئی شخص نہیں جو اس کو خدا کی نعمت سمجھے اور علی الاعلان اس کا ذکر کر کے خدا کا اعتراف کرے ۔ شکر، دین کا خلاصہ ہے اور وہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں سے نکل گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانہ میں کچھ لوگ ہوں جو دین کا کام کریں ۔ مسجد اور مدرسہ چلانا، دعوت اور تبلیغ کا کام کرنا، اسلامی علوم کی خدمت کرنا، وغیرہ ۔ اس طرح کی خدمت کے ساتھ آدمی معاشی کام نہیں کر سکتا ۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے بہت بڑے پیمانہ پر یہ انتظام کر دیا کہ ہر دور میں اہل دین معاش سے فارغ ہو کر دین کی خدمت میں مشغول رہیں ۔ اس اعتبار سے اسلام کی تاریخ کے تین دور ہیں ۔ سیاسی دور، زراعی دور، صنعتی دور۔ قدیم دور سیاسی دور تھا۔ اس زمانہ میں اس قسم کے خادمان دین کے لیے اسلامی حکومت سے باقاعدہ وظیفے جاری کیے جاتے تھے ۔ اس کے بعد زمیندار ، جاگیردار اور نواب پیدا ہوئے جو گویا زراعی دور کے سرمایہ دار تھے۔ یہ لوگ مستقل طور پر دینی خادموں کا مالی تعاون کرتے رہے۔ جدید صنعتی دور میں مسلمان اقتصادی اعتبار سے بالکل پسماندہ ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ عرب سر زمین کے نیچے تیل کا زبردست ذخیرہ پیدا کر دیا جو ان کے لیے صنعتی پس ماندگی کی تلافی بن گیا۔ یہی تیل کی دولت ہے جو دنیا بھر کے تمام دینی اداروں اور دینی شخصیتوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page