علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
مالی امداد فراہم کر رہی ہے۔ لاکھوں لوگ اس سے غیر معمولی فائدے حاصل کر رہے ہیں۔ مگر میرے علم کے مطابق کوئی بھی ایسا شخص نہیں جس کے سینہ میں اس نعمت خداوندی کی بنا پر شکر کا سمندر موجزن ہو گیا ہو۔ (ڈائری، 24 دسمبر 1990) داعی نہ کہ ادیب دو مسلم نو جوان ملاقات کے لیے آئے۔ وہ اورنگ آباد کے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حال میں انہوں نے اورنگ آباد کے مدرسہ سے فراغت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک استاد مولا نا ادریس صاحب آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ ہم لوگ کسی کام سے دلی آئے تھے تو ہم نے چاہا کہ آپ سے بھی ملاقات کریں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے استاد میرے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کہنا ہے کہ آپ جیسا ادیب برصغیر ہند میں کوئی نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو آپ نے میری تعریف نہیں کی بلکہ میرے اوپر پتھر مارا۔ میں ادیب نہیں ہوں بلکہ میری اصل حیثیت یہ ہے کہ میں اسلام کا داعی ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ قدیم عرب میں وہاں کے سردار رسول اللہ کو شاعر کہتے تھے۔ قرآن نے اس کی تردید کی اور کہا کہ وہ شاعر نہیں۔ قدیم عرب سوسائٹی میں شاعر کا لفظ کوئی برا لفظ نہیں تھا، لیکن رسول اللہ کی اصل حیثیت یہ تھی کہ آپ حق کے داعی تھے۔ ایسی حالت میں آپ کو شاعر یا ادیب کہنا آپ کی اصل حیثیت کو گھٹانے کے ہم معنی تھا۔ کسی آدمی کو اگر آپ داعی حق کہیں تو اس کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ آپ اس کی بات مانیں اور اس کا ساتھ دیں۔ لیکن کسی کا شاعر اور ادیب ہونا آپ کے اوپر اس قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالتا۔ (ڈائری، 12 اپریل 1997)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader