Urdu book · علما اور دینی مدارس

سچائی کی فتح

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

نے فرمایا کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ جگہ ہندوؤں کی ہے، مسلمانوں کا دعویٰ اس کے بارے میں غلط ہے۔ مجسٹریٹ نے مولانا محمود بخش صاحب کے اسی بیان پر اپنا فیصلہ دے دیا اور وہ زمین ہندوؤں کو مل گئی۔ یہ زمین کاندھلہ کی موجودہ جامع مسجد کی جنوب مشرقی دیوار سے ملی ہوئی ہے۔ ہندوؤں نے مجسٹریٹ کے فیصلے کے فوراً بعد یہاں مندر تعمیر کر دیا۔ اب بھی اس جگہ پر وہ مندر موجود ہے۔ مسلمان کچہری سے اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کے چہرے اداس تھے اور ان کے دلوں میں شکست کا احساس چھایا ہوا تھا۔ بہت سے لوگوں نے کہا ”مولوٰی نے قوم کو غیروں کے سامنے رسوا کر دیا۔“ مسلمانوں کو معلوم نہ تھا کہ قانون کی عدالت کا فیصلہ اگرچہ ہو چکا ہے مگر اخلاق کی عدالت کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ مولانا محمود بخش کی اس سچائی اور بے لاگ حق پرستی کا ہندوؤں پر بہت اثر پڑا۔ مولانا کی سچائی کے واقعہ میں وہ اس دین کی سچائی کو دیکھنے لگے، جس نے ان کے اندر یہ زبردست قوت پیدا کی کہ وہ ایک نہایت نازک قومی معاملہ میں بھی انصاف سے نہیں ہٹے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کاندھلہ کے کئی ہندو خاندان اسلام سے متاثر ہوئے اور مولانا محمود بخش کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے۔ مسلمان اپنا مقدمہ ہار گئے مگر اسلام اپنا مقدمہ جیت گیا۔ دو شخصوں یا گروہوں میں جب بھی کوئی نزاعی معاملہ پیش آتا ہے تو عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر ایک کی نظر مفاد اور مصلحت کی طرف چلی جاتی ہے۔ جس چیز میں بظاہر فائدہ نظر آئے، جو قومی وقار کے مطابق ہو۔ جس میں دنیوی سربلندی حاصل ہوتی ہو، آدمی بس اسی کی طرف جھک جاتا ہے۔ مگر حقیقی کامیابی کا راستہ یہ ہے کہ معاملہ کو حق اور ناحق اور انصاف اور بے انصافی کی نظر سے دیکھا جائے۔ جو طریقہ حق کے مطابق ہو اس کو اختیار کر لیا جائے اور جو طریق کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دیا جائے۔ یہ اصولی موقف ہے اور اس دنیا میں بالآخر اصولی موقف کامیاب ہوتا ہے، نہ کہ افادی موقف۔ (الرسالہ، ستمبر 1981)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page