سچائی کی فتح
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد انگریز مجسٹریٹ نے ہندوؤں کو بلایا اور کہا کہ کیا تم کسی ایسے مسلمان کا نام بتا سکتے ہو جو تمھارے دعوے کی تصدیق کرے اور یہ گواہی دے کہ یہ زمین مندر کی ملکیت ہے۔ اگر تم ایسے مسلمان کا نام بتاؤ تو میں اس کے بیان پر زمین کا فیصلہ تمھارے حق میں کردوں گا۔ ہندوؤں نے باہم مشورہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجسٹریٹ سے کہا کہ یہ مسئلہ قومی عزت کا معاملہ بن گیا ہے۔ اس لیے بہت مشکل ہے کہ کوئی مسلمان یہ گواہی دے کہ یہ زمین مندر کی ہے تاہم ہماری بستی میں ایک بزرگ ایسے ہیں جن سے ہم کو امید ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔ ہندوؤں نے جس مسلمان کا نام بتایا وہ مولانا مظفر حسین کاندھلوی کے والد مولانا محمود بخش ( وفات 1258ھ ) تھے۔ مجسٹریٹ کا کیمپ اس وقت کاندھلہ کے قریبی موضع ایلم میں تھا۔ اس نے فوراً مولانا محمود بخش کے یہاں پیغام بھیجا کہ وہ کچہری میں پہنچ کر متعلقہ مسئلہ میں اپنا بیان دیں۔ مجسٹریٹ کا بھیجا ہوا آدمی جب مولانا موصوف کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ فرنگی کا منھ کبھی نہیں دیکھوں گا۔ مجسٹریٹ نے دوبارہ اپنا چپراسی بھیج کر کہلایا کہ اس کا انتظام رہے گا کہ میں یا کوئی دوسرا انگریز آپ کے سامنے نہ پڑے۔ آپ مہربانی کر کے تشریف لائیں، کیونکہ آپ ہی کے بیان پر ایک اہم مقدمہ کا فیصلہ ہونا ہے۔ اس نے مزید کہلایا کہ آپ کی مذہبی کتاب قرآن میں یہ حکم ہے کہ کسی معاملہ میں کسی کے پاس گواہی ہو تو وہ اس کو پیش کرے، وہ ہرگز اس کو نہ چھپائے۔ اب مولانا محمود بخش کاندھلوی مجسٹریٹ کی عدالت میں تشریف لائے۔ مجسٹریٹ خیمہ کے اندر دروازہ کے پاس بیٹھ گیا۔ مولانا دروازہ کے پاس باہر کی طرف کھڑے ہوگئے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کی بڑی تعداد خیمہ کے باہر جمع تھی۔ ہر ایک ملے جلے جذبات کے ساتھ منتظر تھا کہ دیکھیے آج کیا پیش آتا ہے۔ اندر بیٹھے ہوئے مجسٹریٹ نے بلند آواز سے پوچھا کہ مولانا محمود بخش صاحب یہ بتائیے کہ یہ متنازعہ جگہ ہندوؤں کی ہے یا مسلمانوں کی ہے۔ مولانا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader