Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک تجربہ

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

لیڈر کون کون ہے۔ انہوں نے ان لیڈروں سے ملاقات کی۔ ان کو ندوہ میں نہایت اہتمام کے ساتھ چائے پر بلایا گیا۔ ندوہ والوں نے ان ”ظالم“ لڑکوں سے ان کے ظلم اور بدتمیزی کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ ان سے ساری ملاقات اور گفتگو اس طرح کی گئی جیسے کہ ندوہ والوں کو ان سے کوئی شکایت ہی نہیں۔ پوری مدت میں ندوہ کے لوگ ان سے اس طرح معتدل انداز میں ملتے رہے جیسے کہ ان کی طرف سے ظلم و زیادتی کا کوئی واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔ ان گفتگوؤں اور ملاقاتوں کے نتیجہ میں، عین پیشگی منصوبہ کے مطابق، یہ ہوا کہ ندوہ کی ٹیم اور یونیورسٹی کی ٹیم کے درمیان ہاکی کا میچ رکھا گیا۔ ندوہ کے لڑکے ہاکی کھیلنے میں مشہور ہیں۔ مگر انہیں پیشگی طور پر یہ سمجھادیا گیا کہ تمہیں اس میچ میں جیتنا نہیں ہے۔ تم کو جان بوجھ کر خراب کھیل کھیلنا ہے تا کہ تم ہار جاؤ۔ منصوبہ یہ تھا کہ جان بوجھ کر یونیورسٹی کے لڑکوں کو کھیل میں جتایا جائے اور پھر انہیں ہیرو بنا کر ان کے دل کو جیتنے کی کوشش کی جائے۔ مقررہ تاریخ کو دونوں کے درمیان ہاکی کا میچ ہوا۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ندوہ کے نوجوان خراب کھیل کھیلے اور یونیورسٹی کے لڑکوں کو بالقصد یہ موقع دیا کہ وہ بہتر کھیل کھیل کر میچ جیتیں ۔ چنانچہ یہی ہوا۔ یونیورسٹی کے طلبہ ندوہ کے طلبہ کے مقابلہ میں ”شاندار طور پر“ کامیاب ہو گئے ۔ اب طے شدہ منصوبہ کے مطابق یونیورسٹی کے لڑکوں کو خوب اچھالا گیا۔ مختلف طریقوں سے ان کی تالیف قلب کی گئی۔ ان کو دل کھول کر انعامات دیے گئے۔ ان کا ہیروانہ استقبال کیا گیا، وغیرہ۔ یونیورسٹی کے طلبہ ندوہ والوں کے مقابلہ میں اپنی بڑائی چاہتے تھے اور ندوہ والوں نے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو جھکا کر ان کی بڑائی کا اعتراف کر لیا۔ ندوہ کے لوگوں نے اپنے مذکورہ عمل سے یونیورسٹی کے طلبہ کے جذبات برتری کو پوری طرح تسکین دے دی۔ اب مسئلہ اپنے آپ حل تھا۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے اس کے بعد پھر کبھی ندوہ والوں کو پریشان نہیں کیا۔ یہ ایک عظیم الشان مثال ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ جھگڑوں کا حل کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page