Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک تجربہ

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ وہ حل یہ ہے کہ مسلمان یک طرفہ اقدام کے ذریعہ ہندومسلم تناؤ کوختم کردیں ۔ وہ خود ”چھوٹے بھائی “ بن کر فریق ثانی کو ” بڑے بھائی “ کا درجہ دینے پر راضی ہو جائیں ، اور اس کے بعد ان کے تمام مسئلے یقینی طور پر حل ہو جائیں گے ۔ ندوہ کا مذکورہ واقعہ مزید اس جھوٹے اندیشہ کو غلط ثابت کرتا ہے کہ اگر ہم جھکیں گے تو وہ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے ۔ مذکورہ واقعہ میں ندوہ والوں نے واضح طور پر یک طرفہ جھکاؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ لکھنؤ یونیورسٹی کے غیر مسلم طلبہ کی ہمتیں اور زیادہ بڑھ جائیں ۔ وہ پہلے سے زیادہ جری ہو کر ندوہ والوں کو ستانے لگیں۔ ندوہ والوں کا نرم رویہ ان کو اور زیادہ سخت رویہ والا بنا دے۔ مگر ایسا قطعا نہیں ہوا۔ بلکہ ندوہ والوں کے جھکاؤ نے انھیں بھی جھکا دیا۔ ایک فریق کی نرمی دوسرے فریق کو نرم کرنے کا سبب بن گئی۔ جو مسئلہ دس سال سے ناقابل حل بنا ہوا تھا، وہ ایک دن کے اندر لڑے بھڑے بغیر حل ہو گیا۔ 1974 کے بعد وہ دوبارہ کبھی پیش نہیں آیا۔ ندوہ کے اس چھوٹے سے واقعہ میں اس عظیم تر مسئلہ کے بارے میں رہنمائی موجود ہے جس کو عام طور پر ملی مسئلہ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ عملی تجربہ کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ملک کے فرقہ وارانہ جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ ندوہ والوں نے اپنے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اپنے محدود دائرہ میں جو تدبیر کی وہی تدبیر وسیع تر دائرہ میں ملت کے مسائل کا بھی واحد یقینی حل ہے ۔ اگر مسلمان اس دانش مندی کا ثبوت دیں ، جس کا ثبوت ندوہ والوں نے دیا تو یقینی طور پر ان کے تمام جھگڑے ختم ہو جائیں گے ۔ اور پھر مسلمانوں کو موقع مل جائے گا کہ وہ امن اور یکسوئی کے ماحول میں اپنی تعمیر و ترقی کا کام کر سکیں ۔ اس کے بعد وہ تعمیر کے کام کے لیے بھی مواقع پالیں گے اور اسلام کے تعارف کے لیے بھی۔ (الرسالہ، جون 1986)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page