Urdu book · علما اور دینی مدارس

امن کا فائدہ

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر ووی کاتجوبو نے کہا کہ ہائی جیکنگ کے معاملہ میں جیسونت سنگھ کے ساتھ افغانستان (قندھار) گیا تھا۔ وہاں ہماری ملاقات افغانی نوجوانوں سے ہوئی ۔ انہوں نے اپنے آپ کو دیوبندی بتایا۔ ہم نے پوچھا کہ آپ لوگ برائے سیاحت ہندوستان آنا پسند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ پھر ہم نے پوچھا کہ آپ ہندوستان میں کون سی جگہیں دیکھنا چاہیں گے۔ انہوں نے سب سے پہلے دیوبند کا نام لیا۔ مسٹر ووی کاتجوبو نے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ طالبان تحریک اور ہائی جیکنگ کا تعلق کیا دیوبند کے مدرسہ سے ہے۔ میں نے کہا کہ ایسا ہرگز نہیں ۔ ان لوگوں کا یہ کہنا کہ ہم دیوبندی ہیں، صرف فقہی معنی میں ہے، اور اس معنی میں میں بھی دیوبندی ہوں۔ اس کا کوئی تعلق طالبان کی سیاسی تحریک سے نہیں ہے۔ پھر میں نے کہا کہ افغانستان میں بڑے بڑے دینی مدرسے نہیں ہیں۔ چنانچہ آزادی سے پہلے افغانستان کے طلبہ دارالعلوم دیوبند میں آ کر دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ آزادی کے بعد جب حالات بدل گئے تو دیوبند کے پڑھے ہوئے علما نے بلوچستان میں افغانی سرحدی سرحد کے قریب بہت سے مدرسے قائم کیے ۔ یہ مدرسے نصاب کے اعتبار سے دیوبندی پیٹرن پر تھے۔ اس لیے ان مدرسوں کو بھی دیوبندی مدرسہ کہا جانے لگا۔ دیوبندی مدرسہ کا مطلب حنفی فقہ کی تعلیم کا مدرسہ ہے جیسا کہ دیوبند کا یہ مدرسہ ہے۔ میں نے کھل کر وضاحت کی کہ افغانی طالبان کا سیاسی نظریہ پاکستان کے سیاسی لیڈروں کا بنا ہوا ہے ، نہ کہ دیوبندی مدرسہ کا دیا ہوا۔ مسٹر ووی کاتجوبو میری باتوں کو سن کر مطمئن ہوگئے اور دیوبند کے بارے میں ان کے شبہات ختم ہو گئے۔ (ڈائری ، 6 مارچ 2000)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page