Urdu book · علما اور دینی مدارس

امن کا فائدہ

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

امن کا فائدہ بھوپال کے محمد ذاکر حسین کے صاحبزاد و محمد زبیر کی عمر ابھی صرف آٹھ سال ہے اور انہوں نے آدھا قرآن حفظ کر لیا ہے۔ میں نے صاحبزادے سے کہا کہ آپ قرآن کا کچھ حصہ پڑھ کر سنائیں انہوں نے سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ان کے پڑھنے کا انداز ایسا تھا جیسے کوئی پختہ قاری پڑھ رہا ہو۔ ان کو سن کر میں نے کہا کہ یہ بھی قرآن کا ایک زندہ معجزہ ہے کہ 8 سال کا ایک بچہ 15 پارہ حفظ کرلے اور اس کو ایک پختہ قاری کی طرح پڑھ کر سنائے معلوم ہوا کہ انہوں نے صرف ڈیڑھ سال میں یہ حفظ کیا ہے۔ مذکورہ بچہ کے استاد حافظ عبد الرقیب صاحب ہیں۔ وہ اپنے بزنس کے سلسلہ میں ہر روز بھوپال سے بیر کھیڑی جاتے ہیں۔ 32 کلومیٹر کا یہ فاصلہ بس کے ذریعہ طے ہوتا ہے۔ بس کے مالک غیر مسلم ہیں مگر جب انہوں نے جانا کہ یہ بچہ اپنے استاد کے ساتھ حفظ قرآن کے لیے روزانہ سفر کرتا ہے تو انہوں نے بچہ کا کرایہ لینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ یہ بچہ ہر روز 64 کلومیٹر کا یہ سفر بس کے ذریعہ طے کرتا ہے مگر بس کے مالکان اس کا کرایہ نہیں لیتے۔ یہ قصہ سن کر میں نے کہا کہ یہ بھی قرآن کی ایک کرامت ہے۔ (الرسالہ ، مارچ 1999) دار العلوم دیو بند کا ایک واقعہ 5 مارچ 2000 کو ہندوستانی وزیر خارجہ مسٹر جسونت سنگھ کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسئلہ میں آپ سے بات کرنا ہے۔ اس کے لیے میں وزارت خارجہ کے جوائنٹ سکریٹری مسٹروو یک کاٹجو کو آپ کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد وہ 5 مارچ کی شام کو ہمارے دفتر میں آئے اور دیر تک گفتگو کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page