Urdu book · علما اور دینی مدارس

عقل کی آنکھ سے

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

عقل کی آنکھ سے خطیب بغدادی نے اپنی کتاب ”تاریخ بغداد“ (جلد 16، صفحہ 362) میں قاضی ابو یوسف کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے۔ علی بن جور کہتے ہیں کہ امام ابو یوسف نے مجھ کو بتایا۔ میرے باپ ابراہیم بن حبیب کا انتقال ہو گیا۔ میری ماں نے مجھے ایک دھوبی کے یہاں خدمت کے لیے رکھ دیا۔ میں اکثر دھوبی کو چھوڑ کر امام ابو حنیفہ کے حلقۂ درس میں چلا جاتا اور وہاں حدیث اور فقہ کا علم حاصل کرتا۔ میری ماں کو معلوم ہوتا تو وہ آتی اور میرا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ دھوبی کے یہاں پہنچادیتی۔ جب ایسا قصہ بار بار ہونے لگا تو میری ماں پر شاق گزرا اس نے امام ابو حنیفہ سے کہا، اس لڑکے کا بگاڑ صرف تم ہو۔ یہ ایک یتیم لڑکا ہے۔ اس کے پاس کچھ نہیں۔ میں چرخہ کات کر اس کو کھلاتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ وہ بھی کچھ کمانے لگے۔ امام ابو حنیفہ نے میری ماں سے کہا: وہ پستہ کا فالودہ کھانے والاعلم حاصل کر رہا ہے۔ میری ماں یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے تمہاری عقل جاتی رہی ہے۔ امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے میری مالی مدد کی اور میں ان کے حلقۂ درس سے برابر علم حاصل کرتا رہا۔ یہاں تک کہ میں اس قابل ہو گیا کہ عباسی حکومت نے مجھ کو قاضی کے عہدے پر مقرر کیا۔ اب میں خلیفہ ہارون رشید کی مجلس میں بیٹھنے لگا۔ میں اس کے دسترخوان پر کھانا کھاتا۔ ایک روز دستر خوان پر ہارون رشید کے لیے فالودہ آیا۔ ہارون رشید نے کہا اس کو کھاؤ۔ میں نے پوچھا: اے امیر المومنین یہ کیا چیز ہے۔ ہارون رشید نے کہا: یہ پستہ کا فالودہ ہے۔ یہ سن کر مجھ کو ہنسی آگئی۔ ہارون رشید نے پوچھا کہ تم کیوں ہنسے۔ پھر میں نے مذکورہ قصہ شروع سے آخر تک بتایا۔ ہارون رشید یہ سن کر اچنبھے میں پڑ گیا۔ اس نے کہا: میری زندگی کی قسم، علم آدمی کو بلند کرتا ہے اور دین اور دنیا میں اس کو نفع دیتا ہے ( اِنَّ العِلمَ لَيَرۡفَعُ وَيَنۡفَعُ دِیۡنًا وّدُنۡيَا ) ۔ اللہ ابو حنیفہ پر رحم کرے، وہ اپنی عقل کی آنکھ سے وہ چیز دیکھ لیتے تھے جس کو وہ اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page