علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
سر کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے (کَانَ يَنْظُرُ بِعَيْنِ عَقْلِهِ مَا لَا يَرَاهُ بِعَيْنِ رَأْسِهِ) ۔ انسان کے چہرے پر اللہ نے دو خوب صورت آنکھیں دی ہیں جن سے وہ تمام چیزوں کو دیکھتا ہے۔ مگر ان آنکھوں سے جو کچھ نظر آتا ہے وہ صرف ظاہری چیزیں ہیں۔ زیادہ گہری اور زیادہ بامعنی چیزیں دیکھنے کے لیے ایک اور آنکھ کی ضرورت ہے۔ یہ بصیرت یا عقل کی آنکھ ہے۔ جو شخص صرف سرکی آنکھ رکھتا ہو اس کا دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مشین کے اوپر کا ڈھکن دیکھے مگر اندر کے کل پرزوں سے بے خبر رہے، ایسا دیکھنا، نہ دیکھنے سے بس برائے نام ہی مختلف ہے۔ بڑھیا کی ظاہری آنکھ نو جوان کا مستقبل صرف دھوبی کے خدمت گار کی صورت میں دیکھتی تھی مگر اسی نو جوان کو جب ایک عقل کی آنکھ والے نے دیکھا تو وہ اس کو بادشاہ کے دستر خوان پر بیٹھا ہوا نظر آیا۔ عقل کی آنکھ آدمی کو کس طرح حاصل ہوتی ہے، اس کا ایک ہی جواب ہے۔ یہ صلاحیت آدمی کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ سر کی آنکھ سے نظر آنے والی چیزوں سے اوپر اٹھ جائے ۔ معنوی حقیقتیں ظاہری حقیقتوں سے پرے ہیں۔ اس لیے معنوی حقیقتوں کو وہی شخص پاتا ہے جو ظاہری حقیقتوں سے گزر جائے۔ سامنے کی چیزوں سے نظر ہٹانے کے بعد ہی دور کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح گہری باتوں کو آدمی اس وقت پاتا ہے جب کہ وہ اوپری باتوں سے بلند ہو جائے ۔ چیزوں کے ظاہری روپ میں گم رہنے والا کبھی چیزوں کو ان کے اندرونی روپ میں نہیں دیکھ سکتا۔ (الرسالہ، اپریل 1980) موت کے عقیدے نے زندگی دے دی ایک نوجوان نے عربی مدرسے سے فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد ان کا ارادہ مزید تعلیم حاصل کرنے کا تھا۔ اسی دوران گھر سے ایک خبر آئی جس نے ان کے حوصلے ختم کر دیے ۔ خبر یہ تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کے گھر پر معمولی کھیتی باڑی تھی۔ اسی میں محنت کر کے ان کے والد صاحب گھر کا کام چلاتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد گھر پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader