علم
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
علم اَلسَّلَامُ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ ( سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 3641)۔ یعنی، علما پیغمبروں کے وارث ہیں۔ اَللَّهُمَّ اَرْحَمْ خُلَفَائِي قلنا: یا رسولَ اللَّهِ، مَن خُلَفَاؤُكَ؟ قال: الَّذِينَ يَرْوُونَ أَحَادِيثِي وَسُنَّتِي وَيُعَلِّمُونَهَا النَّاسَ (المحدث الفاصل للراہمہرزی، صفحہ 136)۔ یعنی، اے اللہ، میرے خلفا پر رحم کر۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کون لوگ آپ کے خلفا ہیں۔ آپ نے کہا کہ وہ لوگ جو میری سنت اور میری احادیث کی روایت کریں گے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیں گے۔ قَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤْلِي: ليس شيء أَعَزُّ من العلم؛ وذلك أنَّ الملوك حُكَّامُ على النَّاس، والعلماء حُكَّامُ على الملوك ( الوافي بالوفيات للصفدي، جلد 16، صفحہ 307)۔ یعنی، علم سے زیادہ طاقت ور کوئی چیز نہیں۔ بادشاہ عوام پر حکومت کرتے ہیں اور علم والے بادشاہ ہوں پر حکومت کرتے ہیں۔ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: يُقَالُ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ عَالِماً فَكُنْ عَالِماً، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَكُنْ مُتَعَلِّمًا، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ مُتَعَلِّمًا فَأَحْبِبْهُمْ، فَإِنْ لَمْ تُحِبُّهُمْ فَلَا تُبْغِضْهُمْ. فَقَالَ عُمَرُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، لَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَخْرَجًا ( کتاب العلم لابی خیثمہ، اثر نمبر 2 )۔ یعنی، عون بن عبد اللہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ اگر تم عالم بن سکتے ہو تو بنو۔ اگر عالم نہیں بن سکتے تو طالب علم بنو۔ اگر تم طالب علم نہیں بن سکتے تو ان سے محبت کرو۔ اگر تم ان سے محبت نہیں کر سکتے تو ان سے بغض نہ رکھو۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے یہ سن کر کہا سبحان اللہ۔ اس کو خدا نے راستہ دے دیا۔ علامہ شاطبی نے لکھا ہے - مستحب، مندوب ، فرض ، اور مکروہ و حرام کی تقسیم میں ہیں، تقرب الی اللہ اور تزکیہ نفس کے سلسلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ کیوں کہ اصل مقصود تزکیہ نفس ہے، جو چیز تزکیہ نفس میں مدد دے وہی اہم ہے، چاہے وہ مستحب ہو یا فرض۔ اور جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader