علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
برائی کی طرف لے جائے وہ ممنوع ہے، خواہ وہ مکروہ ہو یا حرام۔ (الموافقات للشاطبي، القاہرہ، جلد 3، صفحہ 241) عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: أَفْضَلُ الْعِلْمِ الْوَرَعُ وَالتَّفَكُّرُ (کتاب العلم لابن خيثمہ، اثر نمبر 119)۔ یعنی، افضل علم پر ہیز گاری اور غور وفکر ہے۔ (الرسالہ، جنوری 1986) علم کا مقصد افغانستان کے سفر (1988) میں ایک افغانی عالم دین سے ملاقات ہوئی۔ ان کی تعلیم پاکستان کے ایک دارالعلوم میں ہوئی ہے اور اچھی اردو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں الرسالہ برابر پڑھتا ہوں۔ وہ مجھے پاکستان کے ایک واقف کار کے ذریعہ مل جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ صاحب پورے رسالہ کی فوٹو کاپی کر کے مجھے روانہ کر دیتے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اکتوبر 1988 کے الرسالہ میں زمین سے محروم (صفحہ 3) کے عنوان سے جنرل ضیاء الحق مرحوم پر جو مضمون ہے وہ لاجواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل ضیاء کی موت پر مسلم دنیا کے تقریباً ہر اخبار اور ہر رسالہ نے مضامین شائع کیے ہیں اور ہر رہنما نے اپنے بیانات دیے ہیں، مگر آپ کا مضمون ان سب میں منفر دتھا۔ دوسرے لوگوں نے عام طور پر صرف ضیاء کی تعریف کی ہے، ان کو ہیرو بنایا ہے۔ مگر آپ نے اس سے سبق کا پہلو نکالا ہے۔ اور مؤمن کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ ہر واقعے اور ہر حادثے سے عبرت اور نصیحت لے سکے۔ انہوں نے کہا کہ امت پر اس قسم کا سب سے بڑا واقعہ وہ تھاجب کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی وفات ہوئی۔ اس وقت صحابہ کرام نے ایسا نہیں کیا کہ ہر ایک آپ کی شان میں تعریفی تقریر کرنے لگے اور آپ کو ”شہید“ یا اسلامی ہیرو ثابت کرنے میں تمام الفاظ صرف کر ڈالے۔ اس کے برعکس، انہوں نے اس واقعے سے موت اور آخرت کی یاد حاصل کی۔ حضرت ابو بكر تشريف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader