Urdu book · علما اور دینی مدارس

رجل موہوب

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

طرف دوڑ کر آئے گی۔ مولانا موصوف دنیا کی چیزوں سے بے نیاز ہو گئے تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا نے خود اپنے آپ کو ان کے حوالے کر دیا۔ ایک بار ایک عرب سلطان ندوة (لکھنؤ) آئے۔ ان کے استقبالیہ میں جو جلسہ ہوا اس میں تقریر کرتے ہوئے مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے ایک عرب بزرگ کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا تھا: نِعْمَ الأَمِیرُ عَلَى بَابِ الْفَقِیرِ، وَبئْسَ الْفَقِیرُ عَلَى بَابِ الْأَمِیرِ۔ مولانا موصوف ساری زندگی اہل دنیا سے بے نیاز رہے۔ مگر اہل دنیا نے خود اپنی ساری متاع ان کے سامنے پیش کر دی۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا۔ ان کو بڑے بڑے ایوارڈ دیے گئے۔ مثلاً کنگ فیصل ایوارڈ اور اسی طرح برونائی اور عرب امارات کے خصوصی ایوارڈ، وغیرہ۔ مولانا موصوف کی ذات اس حقیقت کی ایک عملی مثال تھی کہ مال، عہدہ، عزت، سب انسان کے تابع ہیں، نہ کہ انسان ان چیزوں کے تابع ہے۔ انسان اگر اپنی انسانیت کو بلند کرلے تو بقیہ تمام چیزیں اپنے آپ اس کو حاصل ہو جائیں گی، بغیر اس کے کہ اس نے ان چیزوں کے لیے براہِ راست جدوجہد کی ہو۔ ایک شاعر نے کسی کے بارے میں کہا تھا: وہ اپنی ذات میں اک انجمن ہیں۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنی ذات میں ایک عالم تھے۔ ان کی موت بلاشبہ موت العالم موت العالم کی مصداق ہے۔ تاہم قابل اطمینان بات یہ ہے کہ مولانا موصوف نے اپنے پیچھے اپنے شاگردوں کی عظیم تعداد چھوڑی ہے۔ یقین ہے کہ مولانا موصوف کے بعد ان کی تربیت سے فیض یافتہ یہ حضرات اس عربی شعر کا مصداق ثابت ہوں گے: إِذَا مَاتَ مَنَّا سَيِّدٌ قَامَ سَيِّدٌ۔ یعنی، جب ہمارا ایک سردار وفات پاتا ہے تو دوسرا سردار کھڑا ہو جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page