رجل موہوب
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کو یہ متحرک شخصیت خاموش ہوگئی۔ وہ انسانوں سے جدا ہوکر اپنے رب سے جابلی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے اندر بیک وقت مختلف اور متنوع خصوصیات موجود تھیں ۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانی نے کہا تھا کہ یورپ میں جو کام اکادمی کرتی ہے، وہ ہمارے یہاں ”اک آدمی“ کرتا ہے۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اس قول کا ایک زندہ نمونہ تھے۔ وہ ایک فرد تھے مگر انہوں نے کئی اداروں کے برابر کام کیا۔ مولانا موصوف نے ایک طرف دار العلوم ندوہ جیسے ادارے کے ذریعے مسلمانوں کو علم دین سے بہرہ ور کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف مؤسسہ مطالعات و تحقیقاتِ اسلامی لکژمبرگ جیسے اداروں کے ذریعے لوگوں کے لیے عصری معرفت کا سامان کیا۔ ایک طرف انہوں نے اپنی مؤثر تقریروں کے ذریعے مسلمانوں میں عملی جوش کو ابھارا اور دوسری طرف انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے انہیں گہرے علمی شعور سے آشنا کیا۔ ایک طرف انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعے مسلمانوں کے ملی تحفظ کا نظام کیا تو دوسری طرف ”پیغامِ انسانیت“ کی تحریک کے ذریعے انہیں داعی کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنی تقریروں وتحریروں ذریعے مسلمانوں کو تعمیر نو کی طرف متوجہ کیا۔ ایک طرف انہوں نے رابطہ العالم الاسلامی کے اہم رکن کی حیثیت سے عالمی مسلم اتحاد کی کوشش کی اور دوسری طرف رابطۂ ادبِ اسلامی کے صدر کی حیثیت سے مسلمانوں کے اندر علم وادب کے حصول کا شوق ابھارا۔ ایک طرف انہوں نے مدارسِ دینیہ کے قیام کے ذریعے قدیم علوم کو زندہ کیا اور دوسری طرف آکسفورڈ یونیورسٹی کے اسلامک سنٹر کے صدر کی حیثیت سے مسلمانوں کے اندر جدید علوم کے ماہر پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی ذات بہت سی اعلیٰ قدروں کا نمونہ بن گئی تھی۔ انہیں میں سے ایک چیز وہ ہے جس کی بابت کہا گیا ہے کہ ــ دنیا سے بے نیاز ہو جاؤ، دنیا خود تمہاری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader