Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

جس ادارے کو ایسے استاد حاصل ہوں، وہ ایک خوش قسمت ادارہ ہے۔ ایسے ادارے میں تعلیم پا کر جو نو جوان نکلیں، وہ یقیناً اپنی زندگی میں کامیاب رہیں گے۔ (الرسالہ، مئی 2015) زندگی کا ایک اصول مولانا مرغوب الرحمن قاسمی (وفات 2010) دار العلوم دیوبند کے مہتمم تھے۔ اپنی زندگی کے آخری تیس سال تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔ اپنے کام کی نسبت سے، اُن کے تعلقات بہت سے لوگوں کے ساتھ قائم تھے۔ ان تعلقات کے لیے مولانا مرحوم کا ایک اصول تھا۔ اس اصول کو مولانا نور عالم خلیل امینی نے اپنے ایک مضمون میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے: "اس مسئلے میں مولانا کے ذہن میں خانے بنے ہوئے تھے اور وہ اُن میں سے ہر ایک کو اُس خانے میں رکھتے جو انہوں نے اُس کے لیے متعین کیا ہوتا تھا، اور اسی "درجہ بندی" کے اعتبار سے، وہ اُن کے ساتھ حسن سلوک اور شفقت کا معاملہ کرتے تھے۔" (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، مارچ 2011، صفحہ 36) یہ اصول ہر شخص کے لیے ایک قابل تقلید اصول ہے۔ یہ اصول آدمی کو غیر ضروری ٹینشن سے بچاتا ہے۔ ایسا آدمی غیر ضروری قسم کی شکایتوں سے محفوظ رہتا ہے۔ یہ ایک عملی اصول (practical formula) ہے اور تعلقات کے معاملے میں عملی اصول ہی ہمیشہ بہتر اصول ہوتا ہے۔ لوگوں کو ایک دوسرے سے شکایتیں کیوں ہوتی ہیں، اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ دوسروں سے زیادہ امید قائم کر لیتے ہیں اور جب وہ شخص ان کی زیادہ امید (over-expectation) پر پورا نہیں اترتا تو وہ اس کی شکایت کرنے لگتے ہیں۔ اس مسئلے کا سادہ حل یہ ہے کہ آپ لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ آپ کسی شخص سے وہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page