علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
امید رکھیے جو باعتبارِ حقیقت اُس سے رکھنا چاہیے ۔ جب بھی ایسا ہو کہ ایک شخص آپ کی امید پر پورا نہ اترے تو آپ صرف یہ کیجیے کہ اس کا ”خانہ“ بدل دیجیے ۔ پہلے اگر آپ نے اُس کو کیٹیگری ”اے“ میں رکھا تھا ، تو اب آپ اس کو کیٹیگری ”بی“ یا کیٹیگری ”سی“ میں ڈال دیجیے ۔ اس کے بعد اُس آدمی کو لے کر آپ کے اندر نہ کوئی ٹینشن ہوگا اور نہ کوئی شکایت ۔ (الرسالہ، مئی 2011) ایک سبق آموز واقعہ مولانانورعالم خلیل امینی (استاد ادب عربی، دارالعلوم، دیوبند) نے دیوبند کا ایک واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ”24 جولائی 2002 کو دارالعلوم دیوبند کے ایک طالب علم کے ساتھ کسی وجہ سے چند شہریوں نے زدو کوب کا معاملہ کیا۔ دار العلوم کے طلبا کی ایک تعداد نوجوانی کے جوش سے مغلوب ہوگئی اور اُن سے دارالعلوم کے چوراہے کی چند دکانوں کو ذرا بہت نقصان پہنچ گیا۔ متعلقہ شہریوں کو بہت تکلیف ہوئی اور انہوں نے حضرت مرحوم (مولانا مرغوب الرحمن قاسمی ، مہتمم دارالعلوم، دیوبند) سے بڑھا چڑھا کر اس معاملے کی شکایت کی۔ حضرت نے فرمایا کہ آپ تحریری طور پر دیجیے کہ آپ لوگوں کا واقعہ کتنا اور کیا کیا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے مبالغے کے ساتھ نقصانات کا اندازہ تحریراً پیش کیا تو حضرت نے فرمایا۔ دیکھیے، دارالعلوم کو قوم جو چندہ دیتی ہے، وہ دارالعلوم کے ضروری مفادات پر خرچ کرنے کے لیے دیتی ہے۔ یہ حقیر اُس کا امین ہے۔ اس میں کوئی خیانت اس کے لیے جائز نہیں ، اِس لیے میں دارالعلوم کی رقم سے آپ کے نقصانات کی تلافی نہیں کرسکتا۔ آپ لوگ مہینے دو مہینے کا موقع دیجیے کہ میں اپنی زمین کا کوئی حصہ مناسب قیمت پر فروخت کرکے آپ کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرسکوں۔ حضرت کی بات سن کر شہریوں کا وفد آب دیدہ ہوگیا اور اُس نے حضرت سے معافی کی درخواست کی کہ حضرت، ہم لوگوں سے شدید غلطی ہوئی کہ ہم نے آپ کو پریشان کیا اور آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader