علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنے۔ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہیے۔ دار العلوم جیسے آپ کا ہے، ویسے ہی وہ ہمارا بھی ہے“۔ (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، مارچ 2011، صفحہ 44)۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی آدمی پیدائشی طور پر برا نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی شخص مذکورہ قسم کا کام کرتا ہے تو ایسا ہمیشہ وقتی جذبے کے تحت ہوتا ہے۔ آپ جوابی رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ نرمی اور خیر خواہی کے ساتھ گفتگو کریں تو عین ممکن ہے کہ فریقِ ثانی کو اپنے کام پر شرمندگی ہو جائے اور وہ خود ہی اپنا رویہ بدل لے۔ منفی رد عمل معاملے کو بگاڑ دیتا ہے، اور مثبت رد عمل معاملے کو درست کر دیتا ہے۔ (الرسالہ، مئی 2011) مجھے آخر تک جانا ہے مولاناشرف علی تھانوی ایک بار ٹرین سے سفر کر رہے تھے۔ ان کو اعظم گڑھ جانا تھا۔ ایک ریلوے گارڈ جو ان کا معتقد تھا اسٹیشن پر ان سے ملنے کے لیے آیا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آدمی بھی آگیا۔ اس نے گنے کا ایک گٹھا تحفہ کے طور پر مولانا کو پیش کیا۔ مولانا نے قبول کر لیا اور اپنے ساتھی سے کہا کہ ان گنوں کا وزن کرا کے ان کو بک کر والو۔ گارڈ نے کہا: بک کروانے کی ضرورت کیا ہے۔ اس ٹرین سے جو گارڈ جا رہا ہے میں اس سے کہہ دیتا ہوں۔ وہ خیال رکھے گا۔ مولانا نے کہا کہ تمھارا گارڈ تو اسی ٹرین تک ساتھ رہے گا اور مجھے آگے جانا ہے۔ گارڈ نے سمجھا کی مولانا کو آگے کسی اسٹیشن پر یہ ٹرین بدل کر دوسری ٹرین پکڑنا ہے۔ اس نے کہا: کوئی ہرج نہیں۔ میں گارڈ کو بتا دیتا ہوں وہ آگے والے گارڈ سے بھی کہہ دے گا اور آپ کو کوئی زحمت نہ ہوگی۔ مولانا نے کہا: مجھے اس سے بھی آگے جانا ہے۔ گارڈ نے حیرت سے پوچھا: آخر آپ کہاں تک جائیں گے۔ ابھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ آپ اعظم گڑھ جا رہے ہیں۔ مولانا نے کسی قدر خاموشی کے بعد کہا: مجھے آخرت تک جانا ہے، وہاں تک کون سا گارڈ میرے ساتھ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader