اعظم گڑھ کا سفر
Urdu book, p. 160
By Maulana Wahiduddin Khan
اعظم گڑھ کا سفر ایک پروگرام کے تحت ، اعظم گڑھ ( یوپی ) کا سفر ہوا۔ میرے سوا اس سفر میں ہماری ٹیم کے پانچ افراد اور شریک تھے مولانا محمد زکوان ندوی ، مسٹر رامش صدیقی ، سعدیہ خان ، نغمہ صدیقی ، ڈاکٹر فریدہ خانم۔ ہم لوگ 29 دسمبر 2008 کی شام کو دہلی سے اعظم گڑھ گئے ، اور 2 جنوری 2009 کو دہلی واپس آئے۔ یہ سفر دہلی اعظم گڑھ ایکسپریس کے ذریعے ہوا۔ دہلی سے ہم لوگ شام کو تقریباً آٹھ بجے روانہ ہوئے اور اگلے دن بارہ بجے اعظم گڑھ پہنچے۔ اعظم گڑھ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں ایک مسلم نواب تھے ، اُن کا نام اعظم شاہ تھا۔ اُن کے نام پر تقریباً 1665ء میں شہر اعظم گڑھ بسایا گیا۔ نواب اعظم شاہ کی فیملی کے لوگ اب بھی شہر کے ایک حصے میں رہتے ہیں ، جس کا نام سدھاری ہے۔ میرے استاد مولانا نجم الدین اصلاحی ( وفات 1994 ) اپنے آخری زمانے میں اسی سدھاری کی مسجد میں رہتے تھے۔ مولانا نجم الدین اصلاحی کی دو کتا بیں مشہور ہیں یادگار سلف ، مکتوبات شیخ الاسلام۔ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن سے ہم لوگ دو بڑی کاروں کے ذریعے قافلے کی صورت میں شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں کئی ایسے مقامات آئے جن سے زمانہ ماضی کی کچھ یادیں تازہ ہوگئیں۔ مثلاً راستے میں سڑک کے کنارے ایک قدیم اسکول ہے جو مشن اسکول ( قائم شدہ 1884 ) کے نام سے مشہور ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن کے زمانے میں ایک بار میں اس اسکول کے سامنے سے گزرا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں طلبا کی بھیڑ ہے۔ وہ ایک کھڑکی کے سامنے لائن لگائے ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں طلبا کو انعامات تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ خوش فہمی کے تحت میں بھی اس لائن میں کھڑا ہوگیا۔ چلتے ہوئے جب میں ونڈو کے پاس پہنچا تو اندر بیٹھے ہوئے آدمی نے کہا آئڈنٹی کارڈ دکھاؤ۔ میں نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی آئڈنٹی کارڈ نہیں۔ اس کے بعد اُس نے مجھ کو ونڈو سے ہٹا دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader