Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعظم گڑھ کا سفر

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

اُس وقت تو میں نے سادگی کے تحت ایسا کیا تھا۔ بعد کو میں نے سوچا کہ ایسا ہی معاملہ آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ وہاں بھی لوگوں کو خدا کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے ۔ بھیڑ کا ہر شخص چاہے گا کہ اس کو یہ خدائی انعام حاصل ہو جائے، اُس وقت ایسا ہوگا کہ کچھ لوگ جن کے پاس استحقاق کارڈ ہوگا، اُن کو انعام تقسیم کرنے والے فرشتے مبارک باد دیتے ہوئے انعام عطا کریں گے اور بہت سے لوگ وہ ہوں گے جن کے ساتھ استحقاق کارڈ موجود نہ ہوگا اور وہ اُس دن خدائی انعام کو پانے سے محروم رہ جائیں گے۔ یہ صرف خدا کو معلوم ہے کہ آخرت کے دن کون مستحق قرار پائے گا، اور کون ابدی طور پر استحقاق سے محروم ہو کر قابلِ رد قرار دے دیا جائے گا۔ آگے بڑھتے ہوئے ہم لوگ شبلی نیشنل کالج کے کیمپس میں داخل ہوئے۔ یہاں کالج کے گییسٹ ہاؤس میں میرے لیے اور میرے ساتھیوں کے لیے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ گییسٹ ہاؤس جدید طرز پر بنایا گیا ہے۔ اُس میں ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ اِس گییسٹ ہاؤس کے کمروں کو رزرو کرنے کے لیے ہم اِس کالج کے پرنسپل ڈاکٹر افتخار احمد کے پاس گئے ۔ اُن کو جب میرا نام بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ اُن سے اور ان کی ٹیم سے کوئی کرایہ نہیں لیا جائے گا۔ جب تک وہ یہاں ہیں، وہ ہمارے مہمان ہیں۔ میزبان نے بتایا کہ گییسٹ ہاؤس کے ان کمروں کا یومیّہ کرایہ پندرہ ہزار روپے ہے۔ اس تعلیمی ادارے کو مولانا شبلی نعمانی (وفات 1914) نے 1883 میں قائم کیا تھا۔ مولانا شبلی نعمانی نے اپنی خاندانی زمین اس کے لیے وقف کی تھی اور اس کے لیے اپنے رشتے داروں کو بھی راضی کیا تھا۔ پہلے یہ شبلی نیشنل اسکول کے طور پر قائم ہوا تھا۔ اب ترقی کر کے وہ ایک بڑے ڈگری کالج کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔ اس وقت اُس کے تین بڑے شعبے ہیں— پرائمری اسکول، ہائی اسکول، ڈگری کالج شبلی نیشنل کالج کے گییسٹ ہاؤس میں مولانا نظام الدین اصلاحی اور جامعۃ الفلاح (بلریا گنج) کے کئی اساتذہ ملاقات کے لیے آگئے ۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page