علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں علم سے مراد معلومات نہیں، معرفت ہے۔ ایک حقیقی معرفت تک پہنچنے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی کے پاس الفاظ اور معلومات کا ذخیرہ ہو، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے اندر صحت فکر ہو۔ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر یہی صحت فکر پیدا کرتا ہے۔ آدمی جتنا زیادہ سنجیدہ ہو اتنا ہی زیادہ اس کے اندر صحت فکر کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ اللہ کا ڈر آدمی کو سب سے زیادہ سنجیدہ بناتا ہے، اس لیے اللہ کا ڈر آدمی کو سب سے زیادہ اس قابل بناتا ہے کہ وہ صحیح اور درست طریقہ پر سوچ سکے۔ اللہ کا ڈر آدمی کے الفاظ اور معلومات کے لیے ایسا ہی ہے جیسے سانچہ خام اشیا کے لیے۔ سانچہ خام اشیا کو با معنی صورت میں تبدیل کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کا ڈر الفاظ اور معلومات کو معرفت میں ڈھال دیتا ہے۔ کچھ علوم انسانی مدرسہ میں پڑھائے جاتے ہیں اور کچھ علوم خدا کے مدرسہ میں۔ (الرسالہ، اکتوبر 1984) صحابہ کا علم صحابہ کرام کے اقوال جو کتابوں میں آئے ہیں، وہ حد درجہ حکمت کی باتیں ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے کسی بھی صحابی نے کسی کالج یا یونیورسٹی میں تعلیم نہیں پائی تھی۔ پھر یہ علم ان کے اندر کہاں سے آیا۔ یہ علم ان کے اندر تقویٰ نے پیدا کیا۔ تقویٰ خود علم ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اس کا سینہ علم کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ چنانچہ مسروق تابعی نے کہا: کَفَی بِالْمَرْءِ عِلْمًا أَنْ يَخْشَی اللَّهَ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 6، صفحہ 142)۔ یعنی، آدمی کے علم کے لیے کافی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے۔ صحابہ کرام اس علم خاص کی اعلیٰ ترین مثال ہیں۔ حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے: مَنْ کَثُرَ ضَحِکُهُ قَلَّتْ هَيْبَتُهُ، مَنْ مَزَحَ اسْتُخُفَّ بِهِ (المعجم الکبیر للطبرانی، اثر نمبر 2259)۔ یعنی، جو آدمی زیادہ ہنسے اس کا رعب کم ہو جائے گا۔ اور جو شخص ہنسی مذاق کرے گا، وہ لوگوں کی نظر میں ہلکا ہو جائے گا۔ حضرت عمر کے اس قول میں جو حکمت ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔ (اوراق حکمت، ڈائری، 6 جولائی (1985

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader