Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

لائے اور آپ کی میت کو دیکھا تو قرآن کی یہ آیت پڑھی: كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔ اسی طرح حضرت عباس نے فرمایا: وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَقَدْ ذَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَوْتَ۔ مذکورہ عالم نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ اس دور میں الرساله سنتِ رسول کو زندہ کر رہا ہے۔ لوگوں کو قومی دین سے نکال کر خداوندی دین پر لا رہا ہے۔ اس وقت اس سے بڑا کوئی کام نہیں۔ (الرساله، مارچ 1989) علم اور تقویٰ قرآن (2:282) میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور وہ تم کو علم دے گا: وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ۔ سورۃ الانفال (8:29) میں کہا گیا ہے کہ اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تم کو فرقان عطا فرمائے گا (اِنْ تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَاناً)۔ ایک اور جگہ سورہ الحدید (57:28) میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے ڈرو... وہ تم کو روشنی عطا فرمائے گا جس میں تم چلو گے (اِتَّقُوا اللَّهَ... يَجْعَلْ لَكُمْ نُوراً تَمْشُونَ بِهِ)۔ امام مالک نے امام شافعی سے ان کی جوانی کی عمر میں نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: اِنِّي أَرَى اللَّهَ قَدْ أَلْقَى عَلَى قَلْبِكَ نُوراً، فَلَا تُطْفِئْهُ بِظُلْمَةِ الْمَعْصِيَةِ (الجواب الكافي لابن القیم، صفحہ (52)۔ یعنی، میں دیکھتا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دل کو روشنی سے بھر دیا ہے تو تم اس کو گناہ کی تاریکی سے نہ بجھاؤ۔ امام شافعی نے اپنے استاد وکیع بن الجراح سے اپنی ایک گفتگو کا ذکر اس طرح کیا ہے: شَكَوْتُ إِلَى وَكِيعٍ سُوءَ حِفْظِي فَأَرْشَدَنِي إِلَى تَرْكِ الْمَعَاصِي وَأَخْبَرَنِي بِأَنَّ الْعِلْمَ نُورٌ وَنُورُ اللَّهِ لَا يُهْدَى لِعَاصِي میں نے اپنے استاد وکیع سے حافظہ کی خرابی کی شکایت کی تو انہوں نے مجھے نصیحت کی کہ گناہوں کو چھوڑ دو اور انہوں نے مجھے بتایا کہ علم روشنی ہے اور اللہ کی روشنی کسی گناہگار کو راستہ نہیں دکھاتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page