اعظم گڑھ کا سفر
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے لیے غارِ حرا کی مانند بن گیا۔ میں صبح وشام یہاں آتا اور پل کی فصیل پر بیٹھ کر سورج کے نکلنے اور سورج کے ڈوبنے کا منظر دیکھتا رہتا۔ پل کے نیچے دریا بہہ رہا ہوتا تھا۔ چاروں طرف دور تک درخت اور کھیت کے سرسبز مناظر تھے جن کے اوپر چڑیاں اڑتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ اوپر نیلے آسمان کا پُرشکوہ منظر ہوتا تھا۔ یہاں میں دیر تک اکیلا بیٹھا رہتا تھا اور فطرت کے مناظر میں کھویا ہوا اُس کو دیکھتا رہتا تھا۔ یہ پل گویا کہ میرے لیے تلاش حق کے طویل سفر کا ایک ابتدائی مرحلہ تھا۔ فطرت کی یہ دنیا میرے لیے ایک کھلی تربیت گاہ کے ہم معنی بن گئی۔ کنورندی کے اِس پل سے آگے بڑھ کر ہم گاؤں میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے ہمارے سامنے وہ اسکول تھا جس کے سالانہ جلسے میں شرکت کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ ہمارے گاؤں میں تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ڈاکٹر عبدالعلی کے خاندان نے ”درس گاہِ اسلامی“ کے نام سے ایک مکتب قائم کیا تھا۔ اس میں اب کافی توسیع ہو چکی ہے۔ میری ابتدائی تعلیم اسی درس گاہ میں ہوئی۔ میرے بچپن کے زمانے میں یہاں مولانا فیض الرحمن اصلاحی (وفات 1972) اُس کے معلم تھے ۔ وہ مدرسۃ الاصلاح کے بانی مولانا محمد شفیع (وفات 1945) کے صاحب زادے تھے۔ اُن سے میں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اِس کے بعد میرے چچا صوفی عبدالمجید خاں (وفات 1949) نے مزید تعلیم کے لیے مجھے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں داخل کرایا۔ بڑھیریا میر امسقط رأس (birth place) ہے۔ یکم جنوری 1925 کو جب کہ میں پیدا ہوا، اُس وقت بڑھیریا صرف ایک دور افتادہ (remote) معمولی گاؤں تھا۔ سیاسی سرگرمیاں یا تمدنی ترقیاں ابھی تک یہاں نہیں پہنچی تھیں۔ میری ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے میں ہوئی۔ یہاں میرے استاذ مولانا فیض الرحمن اصلاحی تھے۔ میرے بچپن اور جوانی کی پوری عمر اسی ماحول میں گزری۔ میری زندگی کا سب سے انوکھا واقعہ یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں کس طرح دعوت الی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader