اعظم گڑھ کا سفر
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
گڑھ شہر سے بڑھیا کا فاصلہ 27 کلومیٹر ہے۔ بڑھیا میرا آبائی وطن ہے۔ راستے میں سڑک کے کنارے چند مقامات آئے۔ اُن میں سے ایک پھر یہاں تھا۔ پھر یہاں اعظم گڑھ کا وہ گاؤں ہے جہاں 1863 میں مشہور مفسر قرآن مولانا حمید الدین پیدا ہوئے۔ مولانا حمید الدین نے پھر یہاں کی تعریف کر کے اُس کو فراہا بنایا اور پھر اس میں یائے نسبت شامل کر کے اپنے نام کے ساتھ فراہی لکھنا شروع کیا۔ تعریف کا یہ ذوق اس علاقے میں کافی بڑھا اور کئی گاؤں کے لوگوں نے اس کی تقلید کی۔ مثلاً سیدھا کے لوگ اپنے کو مستقیمی لکھنے لگے۔ چھاؤں کے لوگ اپنے کو ظلی لکھنے لگے۔ اساڑھاکے لوگ مطری لکھنے لگے، وغیرہ۔ مولانا حمید الدین فراہی کا انتقال 1930 میں ہوا۔ میں نے اُن کو دیکھا نہیں۔ لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اُن کے دو خاص شاگردوں سے مجھے حصول علم کا موقع ملا۔ مولانا امین احسن اصلاحی (وفات 1998)، اور مولانا اختر احسن اصلاحی (وفات 1985)۔ مولانا حمید الدین فراہی کے بارے میں کئی لوگوں نے اُن کے مختصر تذکرے شایع کیے ہیں۔ مثلاً سید سلیمان ندوی، مولانا امین احسن اصلاحی، وغیرہ۔ لیکن مولانا حمید الدین فراہی پر زیادہ جامع کتاب ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی (مقیم اسلام آباد، پاکستان) نے ”ذکر فراہی“ کے نام سے شائع کی ہے۔ یہ کتاب 840 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں تقریباً 18 سال صرف ہوئے ہیں۔ میرے پاس کتاب کا وہ نسخہ ہے جو 2001 میں دائرۂ حمیدیہ (مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڑھ) سے شائع ہوا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کتاب کا ایک ایڈیشن دار النذکیر (لاہور) نے شائع کیا ہے۔ اس میں مصنف نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ پھر یہاں کا گاؤں ایک سڑک کے کنارے واقع ہے۔ یہ سڑک انگریزوں کے زمانے میں بنائی گئی تھی۔ لیکن پھر یہاں سے ہمارے گاؤں تک پختہ سڑک نہ تھی۔ اب یہاں اچھی سڑک بن گئی ہے۔ ہماری گاڑی اس سڑک پر گزرتے ہوئے وہاں پہنچی جہاں گنورندی واقع ہے۔ یہ ندی ہمارے گاؤں کی سرحد پر ہے۔ اس ندی کے اوپر ایک پل ہے۔ اُس زمانے میں یہ پل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader