Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعظم گڑھ کا سفر

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہی میرا اصل موضوع بن گیا۔ میرے ساتھ یہ جو استثنائی معاملہ پیش آیا، اُس پر جب میں غور کرتا ہوں تو اس کی کوئی بھی توجیہ اس کے سوا سمجھ میں نہیں آتی کہ اُس کو قرآن کے الفاظ میں اجتباء (انتخاب) کا ایک معاملہ سمجھا جائے ۔ اجتباء کے لفظی معنی ہیں چن لینا (to choose)۔ اجتباء کے بارے میں قرآن کا تصور یہ ہے کہ خدا، دعوت الی اللہ کے مقصد کے لیے کسی انسان کو چن لیتا ہے، پھر اُس کے لیے ایسے اسباب فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے میں دعوت الی اللہ کے کام کو مطلوب انداز میں کر سکے۔ دعوت کا کام کوئی سادہ کام نہیں۔ یہ موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندگی کا کام ہے۔ اس قسم کی نمائندگی بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ یہ کام صرف وہی انسان کر سکتا ہے جس کو خداوند ذوالجلال کی خصوصی نصرت اور توفیق حاصل ہوئی ہو۔ اجتباء کا لفظ مختلف صورتوں میں قرآن میں 10 بار استعمال ہوا ہے۔ امام راغب الاصفہانی (وفات 1108ء) نے لکھا ہے کہ قرآن کے مطابق، اجتباء کا معاملہ پیغمبر اور غیر پیغمبر دونوں کے ساتھ پیش آتا ہے (مفردات القرآن، صفحہ 87)۔ اجتباء کے اس معاملے کا تعلق صلحاء اور اتقیاء سے نہیں ہے۔ اُن کا معاملہ ایک مختلف معاملہ ہے۔ اجتباء کا تعلق دراصل اُس مخصوص عمل سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت قرار دیا ہے (الحج، 22:40) یعنی دعوت الی اللہ کا عمل۔ میری شخصیت کا ارتقا جو بُدھیر یا اور سرائے میر اور اعظم گڑھ جیسے ماحول میں ہوا، وہ اتنا زیادہ انوکھا ہے کہ بظاہر اس کو اجتباء کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مدرسۃ الاصلاح کے ذمے داروں کو معلوم ہوا کہ میں اعظم گڑھ آرہا ہوں تو انہوں نے ٹیلی فون کے ذریعے مولانامحمد ذکوان ندوی سے ربط قائم کیا۔ اس کے بعد مدرسۃ الاصلاح کا ایک پروگرام بنا۔ پروگرام کے مطابق، مدرسۃ الاصلاح کے دو اساتذہ مولانا انیس احمد اصلاحی، مولانا سرفراز احمد ندوی بُدھیریا آئے۔ ان کے ساتھ 31 دسمبر 2008 کی شام کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page