Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعظم گڑھ کا سفر

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

مدرسۃ الاصلاح کا سفر ہوا۔ ہمارے ساتھ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ٹیم کے افراد بھی شامل تھے۔ مدرسۃ الاصلاح 1908 میں قائم ہوا۔ اس علاقے کے ایک مسلم زمین دار نے مدرسے کے لیے ایک بڑی زمین وقف کر دی۔ اسی زمین پر مدرسۃ الاصلاح کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بانی مولانا محمد شفیع (وفات 1945) تھے، جوایک قریبی گاؤں سیدھا سلطان پور کے رہنے والے تھے۔ مولانا اقبال احمد خاں سہیل کے تذکرے کے تحت بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں اُن کی عربی اور فارسی تعلیم کے لیے مولانا محمد شفیع صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں۔ میری براہِ راست ملاقات مولانا محمد شفیع صاحب سے نہیں ہوئی، البتہ میں اُن کے صاحب زادگان کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اُن سے میرے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اعظمی، مولانا عبد الرحمٰن پرواز اصلاحی، وغیرہ۔ مدرسۃ الاصلاح کے تعارف نامے میں بتایا گیا ہے کہ— مولانا شبلی نعمانی نے اس کے ابتدائی اغراض و مقاصد اور طریقہ کار کا اجمالی خاکہ تیار کیا۔ مولانا حمید الدین فراہی نے اس کے ابتدائی دور سے لے کر اپنی زندگی کے آخری لمحے تک بحیثیت ناظم مدرسۃ الاصلاح کی خدمت کی۔ مولانا فراہی نے اس کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کی اور اس کے لیے نصاب تعلیم مقرر کیا۔ مدرسۃ الاصلاح میں داخل ہونے کے بعد ایک شخص جو پہلی چیز محسوس کرتا ہے، وہ یہاں کی سادگی ہے۔ ہم لوگ مدرسے کے مختلف حصوں میں گئے۔ ہر جگہ ہم نے نمایاں طور پر جو چیز دیکھی، وہ اس کی سادگی تھی۔ یہاں کے لوگ بھی سادہ اور متواضع نظر آئے۔ مدرسۃ الاصلاح کا یہ ماحول غالباً اُس کے بانیوں کے تصور کی بنا پر ہے۔ یہ روایت وہاں اب تک باقی ہے۔ مولانا شبلی نعمانی کو یہاں کی سادگی سب سے زیادہ پسند تھی، اور انہوں نے اس کو قائم رکھنے کی سخت تاکید کی تھی۔ مولانا حمید الدین فراہی اُس زمانے میں دار العلوم حیدر آباد میں پرنسپل تھے۔ مولانا شبلی نعمانی نے اُن کو مدرسۃ الاصلاح کے متعلق اپنے ایک خط مورخہ 19 اپریل 1910 میں لکھا کہ—” کیا تم چند روز سرائے میرے مدرسے میں قیام کر سکتے ہو۔ میں بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page