اعظم گڑھ کا سفر
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
میں پانی گرم کر رہے ہیں۔ جب اُس کا درجہ حرارت ایک خاص نقطے پر پہنچا تو اندر سے اُبال آیا اور برتن کے اوپر رکھا ہوا ڈھکن اُٹھ گیا۔ اُس کو دیکھ کر جارج اسٹیفنسن اس کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس نے جاننا چاہا کہ برتن میں ابال کیوں آیا اور ڈھکن اوپر کیوں اُٹھ گیا۔ اس پر غور کرتے ہوئے وہ اس دریافت تک پہنچا کہ پانی کا درجہ حرارت جب 100 ڈگری سے زیادہ ہو جاتا ہے تو پانی کے سالمات (molecules) ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اس کے ایٹم (atoms) منتشر ہونے لگتے ہیں۔ اس ایٹمی انتشار (atomic disintegration) سے جو طاقت پیدا ہوتی ہے، اس کا نام اسٹیِم پاور (steam power) ہے۔ جارج اسٹیفنسن نے اس اسٹیِم پاور کو دریافت کرکے اس کو انجن میں استعمال کیا اور اس طرح اس نے پہلی بار 1814 میں ایک دخانی انجن (locomotive) کو چلایا۔ دینی مدارس میں عام طور پر تقدس (holiness) کا مزاج چھایا ہوا ہوتا ہے۔ جہاں تقدس آیا، وہاں پراسراریت آگئی۔ اس ماحول میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ چیزوں کو مقدس سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اُن پر مزید غور فکر کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس طرح تقدس کا مزاج فکری ارتقا کے لیے قاتل بن جاتا ہے۔ فکری ارتقا کا آغاز شبہ (doubt) سے ہوتا ہے۔ شبہ سے آغاز کر کے آدمی حقیقت کی شعوری دریافت تک پہنچتا ہے۔ جہاں شبہ کو عیب سمجھ لیا جائے، وہاں ذہنی ارتقا کا آغاز بھی نہیں ہوگا۔ (اس حقیقت کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کرنے کے لیے دیکھیے مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتاب، اسلام دورِ جدید کا خالق)۔ مدرسۃ الاصلاح ریلوے لائن کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں یہ ریلوے لائن برٹش دور میں 1901 میں بچھائی گئی تھی۔ میرے ایک استاد مولانا نور الہدی اصلاحی (وفات 1972) تھے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ہماری کلاس چل رہی ہے۔ اس دوران ریلوے اسٹیشن سے انجن کی سیٹی کی آواز آئی اور پھر مخصوص آواز کے ساتھ ٹرین چلنے لگی۔ اُس وقت مولانا نور الہدی اصلاحی اپنا یہ شعر پڑھتے تھے: پو سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی رل گڑی، رل گڑی، رل گڑی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader