Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعظم گڑھ کا سفر

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

صدر مدرس تھے۔ میرے تجربے کے مطابق ، مولاناموصوف ایک بہترین مدرس تھے۔ وہ اگر مدرسے میں مستقل قیام کرتے تو وہ زیادہ بڑا کام کر سکتے تھے۔ تقسیم ملک (1947) کے وقت وہ پاکستان چلے گئے اور وہیں اُن کا انتقال ہو گیا۔ میرے نزدیک، مولانا موصوف کا مدرسۃ الاصلاح چھوڑ کر پاکستان جانا کوئی درست فیصلہ نہ تھا۔ اگر وہ آخر وقت تک مدرسے میں قیام کرتے تو وہ تعمیر افراد کی صورت میں ملت کو زیادہ بڑا فائدہ پہنچا سکتے تھے۔ مولانامیدانِ اصلاحی کے اندر ایک خاص صفت تھی جو میں نے اپنے تجربے میں کسی اور استاد کے اندر نہیں پائی ، وہ ہے تدریس کے دوران ذہنی تربیت کی غذا دیتے رہنا۔ اس نوعیت کا ایک نمایاں واقعہ ہے، جواونٹ کے سم کے حوالے سے زیرِ نظر کتاب کے ایک باب ”اسلامی تعلیم‘‘ میں نقل کیا گیا ہے۔ مدرسے کا یہ واقعہ میرے لیے اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملے میں اپنی ناواقفیت کو جانوں، تاکہ میں اس کو واقفیت بناسکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء مدرسے سے ملا تھا۔ بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرت آف انکوائری (Spirit of Inquiry)۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سائنسی دریافتوں کا آغاز شبہات (doubts) سے ہوا۔ سائنس داں ایک واقعے کو دیکھتا ہے، پھر اس کے اندر ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ وہ اس کی تحقیق میں لگ جاتا ہے۔ آخر کار وہ ایک ایسی حقیقت کو دریافت (discover) کرتا ہے جو اس سے پہلے اس کو معلوم نہ تھی۔ برٹرینڈ رسل کی کتاب ول ٹو ڈاؤٹ (Will to Doubt) خاص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال بھاپ کی طاقت (steam power) کی دریافت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ برٹش سائنس داں جارج اسٹیفننس (George Stephenson, 1781-1848) ایک دن اپنے گھر پر تھا۔ اُس نے دیکھا کہ اس کے گھر والے ایک برتن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page