Urdu book · علما اور دینی مدارس

دارالعلوم دیوبند کا سفر

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی الگ الگ تقسیموں میں بیٹی ہوئی کوئی چیز نہیں، بلکہ وہ ایک وحدت ہے۔ پانی کے گلاس میں رنگ کی ایک بوند ڈالی جائے تو وہ ایک طرف نہیں پڑی رہے گی بلکہ سارے پانی میں پھیل جائے گی اور پورے گلاس کو رنگین بنادے گی۔ چنانچہ النادی الادبی طلبہ کے اندر عربی لکھنے بولنے کا جو جذبہ پیدا کر رہی ہے، وہ جذبہ ان کی پوری زندگی میں ایک نیا جوش وخروش پیدا کر رہا ہے— ان کی نحو صرف اچھی ہو رہی ہے، ان کی درسيات مضبوط ہو رہی ہیں۔ ان کے اسلامی جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے، ان کے اندر اخلاقی اوصاف ترقی کر رہے ہیں۔ اس طرح ایک اعتبار سے جوش وخروش پیدا کرناپوری زندگی کو جوش وخروش میں تبدیل کرنے کا سبب بن رہا ہے اور سارے وجود میں ایک نئی عملی روح پھونک رہا ہے۔ النادی الادبی کے سالانہ اجتماع میں مجھے ”مہمان خصوصی“ کے طور پر بلایا گیا تھا۔ چار گھنٹے کی بڑی پر کیف مجلس تھی۔ ساری کارروائی عربی میں ہوئی اتنی خوبی سے ہوئی کہ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں بھی اس سے بہتر نظر نہ آئے گی۔ دارالعلوم کے بڑے ہال میں سات سو سے زیادہ طلبہ جمع تھے۔ ہال کو اتنی نفاست سے سجایا گیا تھا اور اتنے نظم اور سلیقے کے ساتھ سب کچھ ہو رہا تھا کہ میں بار بار یہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہی وہ ”مولوی“ ہیں جن پر دقیانوسیت اور زمانہ سے بے خبری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ اس انتہائی منظم اور جدید ترین معیار کے اجتماع میں مجھے ایسا نظر آتا تھا گویا میں ملی صلاحیت کو دیکھ رہا ہوں۔ ہال میں بیٹھے ہوئے باوقار نوجوان ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ملت کی امنگیں ان کی شکل میں مجسم ہو گئی ہیں، وہ امنگیں جو سنگین ترین حالات میں بھی زندہ رہنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ تقریریں، مقالات، مکالمے اور عربی نظمیں نہایت عمدہ عربی لہجے میں اور بے تکلف انداز میں دہرائے جا رہے تھے۔ وقت ختم ہونے کی گھنٹی کے بعد مقرر فی الفور اسٹیج چھوڑ دیتا تھا۔ یہ سب چیزیں ”الاحتفال السنوی للنادی الادبی“ کو عجیب پرکیف بنا رہی تھیں۔ میں نے اپنی ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ عربی تحریر و تقریر کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page