علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ہے کہ قیامت سے پہلے دنیا میں غیر معمولی مادی ترقیاں ہوں گی۔ لوگ مادیات میں اتنا زیادہ مشغول ہو جائیں گے کہ ان کے پاس حکمت وبصیرت جیسی چیزوں پر غور کرنے کے لیے وقت ہی نہ ہوگا۔ لوگوں کے پاس معلومات تو ہوں گی، لیکن حکمت وبصیرت کے اعتبار سے وہ ذہنی بوناپن (intellectual dwarfism) کا شکار ہو جائیں گے۔ لوگ صاحب معلومات تو ہوں گے، لیکن وہ صاحب بصیرت نہ ہوں گے۔ علماکم، خطبا زیادہ مشہور صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: اِنَّكُمْ فِيْ زَمَانٍ: كَثِيْرٌ فُقَهَاؤُهُ، قَلِيْلٌ خُطَبَاؤُهُ.... وَسَيَأْتِيْ مِنْ بَعْدِكُمْ زَمَانٌ: قَلِيْلٌ فُقَهَاؤُهُ، كَثِيْرٌ خُطَبَاؤُهُ (الادب المفرد للبخاری، اثر نمبر 789)۔ یعنی، آج تم ایک ایسے زمانے میں ہو، جب کہ امت میں علما بہت ہیں اور خطبا کم ہیں۔ تمھارے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ امت میں خطبا زیادہ ہوں گے اور علما کم ہوں گے۔ اس قول میں علما (اور بعض روایت کے مطابق فقہا) سے مراد حقیقی اہلِ علم ہیں، اور خطبا سے مراد عوامی انداز میں بولنے والے مقررین ہیں۔ بعد کے زمانے سے مراد اسٹیج اور میڈیا کا زمانہ ہے۔ یہ بعد کا زمانہ آج پوری طرح ہمارے سامنے آ چکا ہے۔ قدیم زمانے میں، جب کہ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا وجود میں نہیں آیا تھا اور نہ جدید قسم کا اسٹیج بنا تھا، اُس وقت تقریر و خطابت میں کوئی کشش موجود نہ تھی۔ اُس وقت کے حالات میں لوگ زیادہ تر علمی مطالعہ اور علمی کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ اس بنا پر قدیم زمانے میں یہ ممکن تھا کہ بڑے بڑے اہلِ علم پیدا ہوں۔ موجودہ زمانے میں، اسٹیج اور میڈیا کے ظہور نے صورت حال کو بالکل بدل دیا ہے۔ اب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader