Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

ممکن ہو گیا ہے کہ آدمی پر جوش تقریریں کر کے اسٹیج پر نمایاں ہو۔ اخباروں میں اس کی تصویریں چھپیں۔ ٹی وی کے پروگراموں میں اس کا شان دار مظاہرہ ہو، وغیرہ۔ اس طرح کی چیزوں نے آج کے ذہین لوگوں کو علم سے بے رغبت کر دیا ہے۔ اسٹیج اور میڈیا میں نمایاں ہونا، اُن کے لیے زیادہ پر کشش بن گیا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو صحابی رسول نے پیشین گوئی کے انداز میں بیان کیا۔ علم والا آدمی سوچ کر بولتا ہے اور خطابت والا آدمی سوچے سمجھے بغیر اپنی تقریر شروع کر دیتا ہے۔ اس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ علم والا آدمی مُصلح کا درجہ پاتا ہے، اور خطابت والا آدمی مفسد کا درجہ۔ مستقبل کی تعمیر کے لیے ہمیشہ صاحب بصیرت اہل علم درکار ہوتے ہیں، نہ کہ اہل خطابت۔(الرسالہ، فروری 2009) سائنٹفک مزاج سائنٹفک مزاج (scientific temper) علمی اعتبار سے کسی انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ سائنٹفک مزاج اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے قول یا اپنے عمل میں کوئی ایسی روش اختیار نہ کرے جو حقیقتِ واقعہ کے خلاف ہو۔ کسی انسان کے اندر سائنٹفک مزاج اس وقت بنتا ہے جب کہ آدمی کے اندر کامل معنوں میں موضوعیت (objectivity) پائی جائے ۔ وہ اس قابل ہو جائے کہ وہ اپنے ذاتی رجحان سے الگ ہو کر چیزوں کو غیر جانبدارانہ انداز میں دیکھے اور ایز اٹ از (as it is) انداز میں اپنی رائے قائم کرے۔ سائنٹفک اپروچ (scientific approach) اور سائنٹفک ٹمپر دونوں قریبی الفاظ ہیں۔ لیکن دونوں میں ایک فرق پایا جاتا ہے۔ سائنٹفک اپروچ ایک ٹکنیکل اصطلاح ہے۔ جب کہ سائنٹفک ٹمپر آدمی کے نفسیاتی مزاج کو بتاتا ہے۔ سائنٹفک اپروچ کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page