Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح میں طلبا اور اساتذہ سے دور ہو جاؤں گا اور زیادہ ملاقاتیں اور انٹریکشن نہ ہو سکے گا۔ چنانچہ مولانا کا کا انیس احمد عمری کی مداخلت سے، میرے لیے لائبریری کی مذکورہ عمارت میں قیام کا انتظام کیا گیا۔ یہ میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ اس طرح میرے لیے ممکن ہو گیا کہ جامعہ میں قیام کے دوران وہاں کے مواقع کو میں پوری طرح استعمال کر سکوں۔ ہم لوگ مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے تھے کہ جامعہ کے ذمے داران اور اساتذہ ملاقات کے لیے آگئے ۔ مولانا کا کا سعید احمد عمری (معتمد عمومی جامعہ)، مولانا کا کا انیس احمد عمری، مولانا ڈاکٹر عبد اللہ جوم عمری مدنی، مولانا ابو البیان حماد عمری، وغیرہ۔ ان حضرات سے کافی دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ان کے ذریعے جامعہ دارالسلام کے بارے میں کئی معلومات حاصل ہوئیں۔ میں نے کہا کہ جامعہ دارالسلام کے بانی جناب کا کا عمر (وفات (1928) واقعی معنوں میں ایک صاحب بصیرت انسان (man of vision) تھے۔ وہ اگرچہ ایک تاجر تھے، لیکن انہوں نے جدید دور کے لیے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس کے مطابق، جامعہ دارالسلام کی بنیاد رکھی، جو اب اپنی وسعت اور اہمیت کے اعتبار سے ایک دینی یونیورسٹی کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ گفتگو کے دوران مولانا کا کا سعید احمد عمری نے جو باتیں بتائیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ اس علاقے میں کوئی ہند و مسلم مسئلہ نہیں۔ یہاں دونوں فرقوں کے لوگ باہم بھائی کی طرح رہتے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات جیسی کوئی چیز یہاں کبھی پیش نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے بارے میں اردو اخبارات کے متعصبانہ بیان کو میں درست نہیں سمجھتا۔ کیوں کہ آزادی کے بعد ہمارے علاقے میں 18 بڑے مسلم کالج قائم کیے گئے ہیں جن کو حکومت کا گرانٹ حاصل ہے۔ یہ تمام مسلم کالج نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ملت کی تعمیر کا کام مؤثر طور پر صرف اُس وقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page