Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ پورا سفر فطرت کے ماحول میں ہوا۔ کشادہ سڑک کے دونوں طرف سرسبز درختوں کے مناظر تھے۔ یہ عام طور پر ناریل کے درخت تھے۔ درختوں کے پیچھے پہاڑی سلسلے نظر آ رہے تھے۔ ہلکی بارش نے موسم کو نہایت خوشگوار بنا دیا تھا۔ سڑک کے کنارے کہیں کہیں خوب صورت گاؤں نظر آتے تھے۔ سفر کے دوران ہمارے ساتھی برابر موبائل کے ذریعے باہر کی دنیا سے ربط قائم کیے ہوئے تھے۔ ایک طرف دہلی کے لوگوں سے، اور دوسری طرف عمر آباد کے لوگوں سے۔ دہلی سے عمر آباد تک ہمارے ساتھیوں کو پتہ تھا کہ اس وقت ہم کہاں ہیں۔ یہ سفر کا ایک نیا تصور ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شکایتوں میں جیتے ہیں، وہ بظاہر انسان کے شاکی ہوتے ہیں، لیکن حقیقتاً وہ خداوند ذوالجلال کی ناشکری کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اگر وہ سوچیں تو اس طرح کا سفر قدیم زمانے میں کسی بادشاہ کے لیے بھی ممکن نہیں تھا۔ ہم لوگ دہلی میں کار سے روانہ ہوئے۔ اس کے بعد ہم ہوائی جہاز کے ذریعے مدراس پہنچے۔ اس کے بعد ہم دوبارہ کار کے ذریعے جامعہ دارالسلام جا رہے ہیں۔ یہ سفر اس طرح طے ہو رہا ہے کہ ہم لوگ ایک طرف اپنے دہلی کے ساتھیوں سے اور دوسری طرف جامعہ دارالسلام کے لوگوں سے پوری طرح مربوط ہیں۔ قدیم زمانے میں اس قسم کا سفر کسی بادشاہ کے لیے بھی ممکن نہ تھا۔ ایسی حالت میں ہم کو سپر شکر میں جینا چاہیے، نہ کہ ناشکری میں۔ مدراس سے 180 کلومیٹر کا سفر طے کرکے ہم لوگ 7 جون 2010 کی شام کو مغرب کے بعد جامعہ دارالسلام پہنچے۔ یہاں ہمارا قیام جامعہ کی لائبریری (مکتبہ عمر) کی جدید عمارت میں تھا۔ یہ ایک وسیع دومنزلہ عمارت ہے۔ اس میں کتب خانہ، ریڈنگ روم، لیکچر ہال اور کچھ کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا قیام اسی مکتبہ کے ایک کمرے میں تھا۔ عمر آباد میں کا فیملی کا ایک کافی بڑا فارم ہاؤس ہے۔ معلوم ہوا کہ جامعہ کے ذمے داران میرے قیام کا انتظام اسی فارم ہاؤس میں کر رہے تھے۔ لیکن مولانا کا انیس احمد عمری نے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page