جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
نے وہاں ہر قسم کے اعلیٰ مواقع فراہم کر دیے۔ اظہارِ خیال کی مکمل آزادی، مطالعے کے لیے بہترین لائبریریاں، لیاقت کا بلا امتیاز اعتراف، ترقی کے مواقع کو ہر ایک کے لیے یکساں طور پر کھولنا، وغیرہ۔ اس بنا پر تمام دنیا کے ذہین لوگ وہاں پہنچ گئے۔ 7 جون 2010ء کو عشاء کی نماز جامعہ دار السلام کی قدیم مسجد (قائم شده 1344 ھ / 1925ء) میں ادا کی گئی۔ نماز کے بعد مسجد میں یہاں کے کئی اساتذہ سے ملاقات ہوئی ۔ ان میں سے ایک جامعہ کے شیخ التفسیر مولانا سید عبد الکبیر عمری صاحب تھے۔ ان کی پیدائش 1923 میں ہوئی ۔ انہوں نے جامعہ دار السلام میں تعلیم پائی، پھر وہ یہیں استاد کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ معمر ہونے کے باوجود وہ ابھی تک پوری طرح صحت مند ہیں۔ نماز کے بعد ہم لوگوں کو کاکا سعید احمد عمری کے گھر لے جایا گیا جو عمر آباد میں مسجد کے بالکل قریب واقع ہے۔ یہاں شام کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے کی میز پر تقریباً 10 آدمی موجود تھے۔ کھانے کے بعد یہاں دیر تک نشست ہوئی جس میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ مولانا کا کا سعید احمد عمری نے کہا کہ جامعہ کے اندر مسلکی تعصب اور تنگ نظری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو آپ کا مسلک معلوم ہے۔ آپ کے مسلک سے اتفاق کی بنا پر ہی ہم نے جامعہ میں آپ کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی اتفاق ہی کا نام اتفاق ہے۔ جزئی اختلافات تو ہر جگہ اور ہر شخص کے اندر پائے جاتے ہیں۔ مولانا فیاض الدین عمری نے کہا کہ میں اس کی تائید کروں گا کہ جامعہ کے اندر مسلکی تشدد بالکل نہیں پایا جاتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں نے جامعہ کے سینئر استاد ڈاکٹر عبد اللہ جلوم صاحب سے بدایۃ المجتہد پڑھی ہے۔ مولانا اگرچہ سلفی ہیں، مگر دلیل کی موجودگی میں انہوں نے ہمیشہ ائمہ کی رائے کو ترجیح دی ہے۔ اور کبھی اُن سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے کا بھی اظہار فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے ذمے داران مسلک کے اعتبار سے اگرچہ سلفی ہیں، لیکن جامعہ کی قدیم مسجد میں وہاں کے امام ایک حنفی ہیں۔ جامعہ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader