Urdu book · علما اور دینی مدارس

جامعہ دارالسلام کا سفر

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

اندر لمبی مدت گزارنے کے باوجود ہم کو بہت سے اساتذہ کا مسلک معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کا ایک امتیاز یہ ہے کہ یہاں کے ذمے داران ہمیشہ اپنے چھوٹوں سے رائے لیتے ہیں اور ان کو آگے بڑھاتے ہیں۔ گفتگو کے دوران کا کا سعید عمری صاحب نے کہا کہ عام طور پر لوگ دوستوں کو حق تنقید دیتے ہیں، مگر وہ اجنبی آدمی کو حق تنقید نہیں دیتے۔ اگر کوئی اجنبی آدمی ان پر تنقید کر دے تو وہ بھڑک اٹھتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوستوں کے علاوہ، اجنبی لوگوں کو بھی حق تنقید دے۔ وہ ایک اجنبی آدمی کی بات کو بھی اسی طرح سنے جس طرح وہ اپنے دوستوں کی بات کو سنتا ہے۔ کا کا سعید احمد عمری نے گفتگو کے دوران کہا کہ جامعہ دارالسلام کا نشانہ بنیادی طور پر صرف دو چیزیں ہیں ـــ دعوت، اور آخرت۔ دعوت برائے آخرت اور آخرت برائے دعوت، یہی جامعہ کا اصل نشانہ ہے۔ اس سلسلے میں طلبہ جامعہ کے سامنے کا کا سعید احمد عمری کے ایک بصیرت افروز خطاب کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”اس وقت ہم علمائے کرام کو اپنی ذمے داری کو محسوس کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ہم برادران وطن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھائیں، انھیں اپنی محبت کا موضوع بنائیں، اپنی تقریبات میں انھیں مدعو کریں اور جب بھی، جہاں بھی موقع ملے، اُسے غنیمت جان کر انھیں اسلام کا صحیح تعارف کرانے اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ بدقسمتی سے ہمارے رہنماؤں نے امت کو برادران وطن کے ساتھ نفرت کرنا ہی سکھایا ہے، اُن سے محبت کرنا نہیں سکھایا۔ برادران وطن ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب تک ہم اُن کے ساتھ محبت سے پیش نہیں آئیں گے، ذرا سوچیے، اُس وقت تک وہ ہماری باتوں پر کیسے توجہ دیں گے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ انھیں ابدی جہنم سے بچانے کی فکر اور تڑپ ہمارے دل میں کیسے پیدا ہوگی“۔ (ماہ نامہ راہ اعتدال، عمر آباد، جون 2010، صفحہ 51)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page