جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
اور مشورہ میں نے یہ دیا کہ آپ لوگ اپنا دعوتی عمل خاص طور پر اُن لوگوں کے ساتھ کریں جن سے آپ کی علمی سطح بڑھنے والی ہو_ دینا وہی دینا ہے جب کہ دینے کے عمل کے دوران آدمی نے خود بھی کچھ پایا ہو۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں گزشتہ ایک سال سے ماہ نامہ الرسالہ اور آپ کی دیگر کتابوں کا مطالعہ کر رہا ہوں_ مطالعے کے دوران میں نے پایا کہ آپ ذہنی ارتقاء پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ذہنی ارتقاء اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں "ازدیادِ ایمان" کہا گیا ہے۔ لوگ ازدیادِ ایمان کو ایک پراسرار چیز سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ازدیادِ ایمان ایک معلوم چیز ہے اور اس کا تعلق انسانی دماغ سے ہے۔ وہ غور و فکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے جس کو قرآن میں تدبر و تفکر اور توسم کہا گیا ہے۔ وہ چیز جس کو قرب الہی کہا جاتا ہے، اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ یہی ذہنی ارتقاء ہے۔ ذہنی ارتقاء سے آدمی کو معرفت حاصل ہوتی ہے، اور معرفت انسان کو اللہ سے قریب کرنے والی ہے۔ 8 جون 2010ء کو عصر کی نماز کے بعد جامعہ دارالسلام کی مسجد میں ایک خطاب رکھا گیا_ اس میں جامعہ کے طلبا اور اساتذہ دونوں شریک تھے۔ اس خطاب کا موضوع تھا: معرفت الہی۔ میں نے کہا کہ معرفت کیا ہے۔ معرفت یہ ہے کہ انسان حالتِ غیب میں اپنے رب کو پہچانے، وہ دیکھے بغیر اس کو دیکھ لے_ معرفت دراصل یہ ہے کہ آدمی کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا حسیاتی تجربہ ہونے لگے_ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں: وَاسْجُدُ وَاقْتَرِب (96:19) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی، سجدہ کر اور قریب ہو جا۔ اور حدیث میں اس کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں: تَعْبُدُ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو_

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader