جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
(2:153) ۔ یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان مطلوب صبر نہیں کر رہے ہیں۔ اگر وہ مطلوب صبر کر رہے ہوتے تو قرآن کے بیان کے مطابق، یقیناً وہ ”ذلت و ناکامی“ کا شکار نہ ہوتے۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق، صبر کرنے والوں کو اللہ کی نصرت حاصل ہوتی ہے، اور اللہ کی نصرت کے بعد کسی کے لیے ذلت و ناکامی کا کوئی سوال نہیں۔ صبر کا مطلب کیا ہے۔ صبر کا مطلب نہ پسمانی ہے اور نہ بے عملی۔ صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی ٹکراؤ کو اوائڈ کر کے مثبت بنیاد پر اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ صبر یہ ہے کہ آپ اپنے دل سے نفرت کو ختم کر دیں، تشدد کے مزاج کو ختم کر دیں، لڑنے کے مزاج کو ختم کر دیں، اشتعال سے پرہیز کریں۔ اس طرح کے مثبت اوصاف کو پیدا کرنے کے بعد جو تعمیری منصوبہ بنایا جائے، اسی کا نام صبر ہے۔ پروگرام کے بعد مولانا کا ساعد احمد عمری نے کہا کہ آپ نے بے حد قیمتی باتیں بتائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ تقریر کے اختتام پر اساتذہ کو ہمارے یہاں کا چھپا ہوا لٹریچر دیا گیا۔ ہال میں میز پر موجود سارا لٹریچر اسی وقت ختم ہو گیا۔ اساتذہ نے خود سے یہ لٹریچر حاصل کیا، اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ 8 جون 2010 کی سہ پہر کو تین بجے سے چار بجے تک عوام کے درمیان کام کر رہے علما کے ساتھ ”تبادلۂ خیال“ کا پروگرام تھا۔ میں نے پروگرام کے آغاز میں تقریباً 25 منٹ تک دعوت کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ دعوت کا عمل ایک اعتبار سے دو طرفہ ایکسچینج (exchange) کا عمل ہے۔ دعوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دوسروں کے سامنے ایک بات کا اعلان کر دیں، بلکہ دعوت کے دوران آپ کو خود بھی سیکھنا چاہیے ۔ دعوتی عمل کا فائدہ خود داعی کو ذہنی ارتقا کی صورت میں ملنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ مطالعہ کتب کو اپنے ڈیلی روٹین میں شامل کر لیں۔ اسی کے ساتھ آپ میں سے ہر شخص ڈائری بھی ضرور رکھے۔ ڈائری گویا کہ کتاب محاسبہ ہے۔ دُعاۃ کو ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader