جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حصول معرفت کی نسبت سے قدیم روایتی دور اور جدید سائنس دور میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ معرفت کا اصل ذریعہ تخلیقات خداوندی میں تدبر او تفکر ہے۔ یہی علمائے راسخین کا مسلک ہے۔ امام ابن تیمیہ نے بجا طور پر لکھا ہے کہ کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں پر غور وفکر کرنا ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے آدمی اللہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت حاصل کرتا ہے: أَنَّ التَّفْكِيرَ فِي الآلَاءِ وَالنَّعَمِ يُمْكِنُ لِلْعَقْلِ أَنْ يَسْتَنْبِطَ فِيهَا عَظَمَةَ الصَّانِعِ وَحِكْمَتَهُ وَمَا يَلِيقُ بِهِ مِنْ صِفَاتِ الْكَمَالِ وَالْجَلَالِ، فَيَعْرِفَهُ حَقَّ مَعْرِفَتِهِ (دقائق التفسیر، الجامع لتفسیر ابن تیمیہ، 1/49)۔ یہ تدبر اور تفکر قدیم زمانے میں بھی مطلوب تھا، اور آج بھی اسی کے ذریعے کسی آدمی کو معرفت خداوندی مل سکتی ہے۔ اس اعتبار سے، قدیم دور اور جدید دور میں کوئی فرق نہیں، البتہ جدید سائنسی دور میں معلومات کے اضافے کی بنا پر تدبر کا فریم ورک (frame work) بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ پروگرام ختم ہوا تو مغرب کی نماز میں تقریباً نصف گھنٹہ باقی تھا۔ ہم لوگ کچھ دیر کے لیے کلیہ بلڈنگ کے دفتر میں بیٹھ گئے۔ یہاں جامعہ کے مختلف اساتذہ اور دیگر علما موجود تھے۔ مولانا سید اقبال احمد عمری نے کہا کہ آج کی تقریر (معرفت الہی) میں آپ نے جنت اور کلمات رب کے بارے میں جو کچھ کہا، اُس سے جنت اور آخرت کی معنویت پوری طرح کھل گئی۔ میں نے کہا کہ جنت کا یہ تصور اُس سوال کا واحد جواب ہے جو تمام اہل علم کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ تمام فلاسفہ اور مفکرین اور سائنس داں مشترک طور پر اس مسئلے سے دوچار ہیں کہ اتنی زیادہ بامعنیٰ (meaningful) کائنات کیا ایک بے معنی انجام (meaningless end) پر ختم ہو جائے گی۔ جنت کا تصور واحد تصور ہے جو اس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ لیکن جنت کے ماننے والوں نے جنت کی جو تصویر بنا رکھی ہے، اُس میں اُنھیں اپنے اس سوال کا جواب نہیں ملتا۔ 8 جون 2010 کو مغرب کی نماز کے بعد ہم لوگ اپنے کمرے میں آگئے ۔ یہاں جناب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader