جامعہ دارالسلام کا سفر
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
رياض موسیٰ مالاباری سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اس کے علاوہ، وہ ہماری کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کا ملیالم ترجمہ شائع کر رہے ہیں۔ ان کی مادری زبان ملیالم ہے۔ انہوں نے میرے حالات اور مشن کو لے کر ایک تفصیلی انٹرویو لیا جس کو وہ ملیالم اخبار میں شائع کریں گے۔ آج شام کو مولانا کا کا سعید احمد عمری سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے تزکیہ اور روحانیت کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی۔ یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ بعد کو اس مجلس میں دیگر علما کے علاوہ، مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا سید اقبال احمد عمری، وغیرہ آگئے۔ کا کا صاحب اپنے مزاج کے اعتبار سے بہت صاف دل آدمی ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اس مجلس میں مولانا فیاض الدین عمری نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پایا ہے کہ کا کا صاحب کا سب سے بڑا کنسرن (concern) یہ ہے کہ جامعہ دارالسلام کے طلبا اور اساتذہ میں تزکیہ اور روحانیت پیدا ہو۔ یہ بات سن کر کا کا صاحب فوراً سنجیدہ ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ آپ لوگ غلط بات کیوں کہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہیے کہ خود مجھے تزکیہ اور روحانیت کی ضرورت ہے۔ 8 جون 2010 کو ہم نے عشاء کی نماز عمر آباد کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد جامعہ کے ایک سینئر استاذ اور سابق شیخ الحدیث مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی صاحب کے گھر پر کھانے کا پروگرام تھا۔ وہ جامعہ کیمپس کے باہر عمر آباد میں رہتے ہیں۔ وہ 1920 میں (اعظم گڑھ، یوپی) میں پیدا ہوئے اور بعد کو عمر آباد میں آ کر بس گئے۔ وہ 1958 سے مستقل طور پر عمر آباد میں مقیم ہیں۔ گزشتہ 50 سال سے وہ جامعہ میں حدیث کے استاذ ہیں اور اسی کے ساتھ افتاء کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔ اپریل 1977 میں انھیں کی خصوصی دعوت اور تحریک پر میں نے جامعہ دارالسلام کا سفر کیا تھا۔ عمر آباد آنے سے پہلے میں نے یہ کہہ دیا تھا کہ میں کسی کے گھر دعوتی کھانا کھانے کے لیے نہیں جاؤں گا۔ میں صرف جامعہ میں کھانا کھاؤں گا۔ مگر بعض وجوہ سے استثنائی طور پر مولانا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader