Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مزاج کا خلاصہ ایک لفظ میں تواضع (modesty) ہے۔ تواضع کو کچھ لوگ انسان کی انفعالی صفت بتاتے ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ تو پست ہمتی کا درجہ دیتے ہیں۔ لیکن یہ ایک محمود صفت کو ایک محمود نام دینا ہے۔ تواضع آدمی کے اندر عقلی غور و فکر کی صفت پیدا کرتی ہے۔ تواضع آدمی کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ (as it is thinking) پیدا کرتی ہے، اور بلاشبہ اس قسم کی سوچ آدمی کے لیے سب سے بڑا فکری سرمایہ ہے۔ ایسے ہی انسان کو مین کٹ ٹو سائز (man cut to size) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ متواضع آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، اور مغرور آدمی ہمیشہ ناکام رہتا ہے۔ انسان کی کامیابی کا ایک راز یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو فخر اور غرور کی نفسیات سے بچائے، وہ اپنے آپ کو ویسے ہی سمجھے جیسا کہ وہ باعتبار حقیقت ہے، ایسا آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو حد کے اندر رکھتا ہے، وہ کبھی حد سے باہر نہیں جاتا۔ تواضع انسان کو ایک بہادر انسان بناتی ہے۔ تواضع آدمی کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ بلا سوچے سمجھے اقدام کر ڈالے، اور پھر آخر میں ساری زندگی اس پر پچھتاتا رہے۔ تواضع ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے، حیوان تواضع کو نہیں جانتا۔ یہ صرف انسان ہے، جو تواضع کی حقیقت کو جانتا ہے، اور پھر اس کو شعوری طور پر اختیار کرتا ہے۔ ٹیم کے ذریعے مدد حضرت موسیٰ قدیم مصر میں پیغمبر تھے۔ ان کو جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بنایا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ میں تنہا یہ کام نہیں کر سکتا، اس لیے میرے بھائی ہارون کو اس کام میں میرا مددگار بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی (طٰہ، 36-20)۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی کمی کی تلافی کے لیے ان کو مددگار کے طور پر ایک ٹیم دے دی گئی۔ اس ٹیم میں پہلے صرف حضرت ہارون تھے۔ اس کے بعد اس میں اور بہت سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page