Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنسداں کے حیثیتِ عرفی کے خلاف ہے۔ کیوں کہ سائنسداں اپنے علمی موقف کے مطابق، صرف آبجیکٹیو بیان (objective statement) کو درست (valid) سمجھتا ہے، نہ کہ سبجیکٹیو بیان (subjective statement) کو۔ ڈاکٹر اے وی ہلژ (Archibald Vivian Hill, 1886-1977) نے کہا ہے کہ میں آخری شخص ہوں گا جو اس بات کا دعویٰ کرے کہ ہم سائنسداں دوسرے تعلیم یافتہ لوگوں کے مقابلے میں کم تعصب رکھنے والے ہوتے ہیں: I should be the last to claim that we, scientific men, are less liable to prejudice than other educate men. ایک سائنسی عالم کا مذکورہ قول بالکل درست ہے۔ اس کلیہ میں سائنس دانوں کا بھی کوئی استثنا نہیں۔ سائنسی مزاج کسی آدمی کا سب سے بڑا ذہنی سرمایہ (intellectual asset) ہے۔ ایسا آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کے بارے میں مبنی برحقیقت رائے قائم کرے، وہ جانبدارانہ سوچ سے آخری حد تک خالی ہو، وہ چیزوں کو اپنے ذاتی رجحان کی روشنی میں نہ دیکھے، بلکہ اس طرح دیکھے جیسے کہ وہ حقیقتاً ہیں۔ صلحائے امت صلحائے امت کے بارے میں جو حالات کتابوں میں ملتے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے بارے میں وہ آخری حد تک بے رغبت ہو گئے تھے۔ دوسری طرف ان میں یہ صفت بھی تھی کہ وہ اپنے آپ کو دین کی اعلیٰ خدمت کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ گویا کہ ان کے اندر بیک وقت دو متضاد صفتیں پائی جاتی تھیں ایک طرف یہ کہ دنیا ان کے لیے ایک غیر مرغوب چیز بن گئی، اور دوسری طرف یہ کہ دین کی کسی اعلیٰ خدمت کے لیے اپنے آپ کو نااہل سمجھنا۔ امت میں اعلیٰ معیار کے جو صلحا پیدا ہوئے، ان میں یہ دونوں صفتیں اعلیٰ درجے میں موجود تھیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page