ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 275
By Maulana Wahiduddin Khan
محمد ثناء اللہ ندوی شریک سفر تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے الرسالہ کی تحریریں پڑھی ہیں اور اب صاحب الرسالہ کے ساتھ سفر میں نکلے ہیں، اس بارے میں اپنا تاثر بتائیے۔ ان کا جواب ان الفاظ میں تھا’’میں نے بہت سارے مصنفین کی کتابیں پڑھی ہیں، لیکن مولانا وحید الدین کی تصانیف، ان کا الرسالہ بالخصوص ان کی چند روزہ صحبت نے میرے اندرون، میں میری فکر میں اور میرے جذبہ دعوت میں انقلاب پیدا کر دیا۔ میں مولانا کو اس دور کا عظیم مفکر، حقیقی داعی، خادم قوم وملت مانتا ہوں اور ان کے مشن سے مکمل اتفاق رکھتا ہوں‘‘۔ آزادی سے پہلے کے ہندوستان میں یہ عام رواج تھا کہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں ہندو نو جوان بھی پڑھا کرتے تھے۔ یہ روایت اب بھی بہار میں کسی قدر باقی ہے۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ مثال ٹائمس آف انڈیا کے پٹنہ ایڈیشن (9 ستمبر 2000) میں شائع ہوئی ہے۔ یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ ٹائمس آف انڈیا کے نئی دہلی ایڈیشن (12 ستمبر 2000) میں چھپا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہار کے ضلع گوپال گنج (گھیتا پور) میں ایک مسلم مدرسہ قائم ہے جس میں 400 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان میں سے 70 ہندو طلبہ ہیں۔ ایک سابق ہندو ایم ایل اے نے بھی اپنے بچے کو اس مدرسے میں داخل کرایا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا کی یہ رپورٹ اگلے صفحہ پر نقل کی جارہی ہے۔ HINDUS STUDYING IN MADRASA PATNA: There were a few lessons the Maulana still had to learn. On an annual visit to a local madrasa in the backwaters of Bihar, the Maulana from UP was surprised to see two Hindu boys, aged three and five, attired in a topi, reading Urdu prescribed for the students of the minority community. "When he learnt their names, he wanted to meet me," exults their grandfather Vidya Bhusan Singh. A strange lesson for the Maulana, yes. But for Singh, there seems to be nothing amiss in his decision. The ex-MLA has been sending his two grandsons to the local Madrasa instead

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader