ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
اس لیے وہ اس کو اجنبی سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔ آپ کا کام یہ ہے کہ اس معاملے میں ان کے شعور کو جگائیں۔ شعوری بیداری کے بعد اپنے آپ ان کا یہ تضاد ختم ہو جائے گا۔ مولانا عبدالرحیم امدادی صاحب نے اس علاقہ میں مسلسل دورہ کرکے یہاں الرسالہ مشن کا ماحول بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس وسائل کے نام سے کوئی چیز نہ تھی۔ اس کے باوجود میں دیوانہ وار الرسالہ کے لیے گھومتا رہا۔ نہ صرف بھوک پیاس بلکہ ہر قسم کی تکلیفوں کو مجھے سہنا پڑا۔ آخر کار ایک وقت آیا جب کہ میرے لیے دروازے کھل گئے اور پورے علاقہ میں ساتھیوں اور مددگاروں کی ایک فوج مجھے حاصل ہوگئی۔ اپنا تجربہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دین کے کام میں اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔ مگر وہ اس وقت آتی ہے جب کہ آدمی کے اوپر سو میں سے ننانوے مرحلے گزر چکے ہوں۔ اللہ کی مددسویں مرحلے پر آتی ہے، اس سے پہلے نہیں۔ 3 نومبر کی صبح کو ہم لوگ ڈاکٹر اے رحمن ماڈل اکیڈمی دیکھنے کے لیے گئے۔ مسٹر سہیل اختر اس کے پرنسپل ہیں۔ وسیع اور شاداب کیمپس میں ایک خوبصورت زیر تعمیر مسجد ابھر رہی ہے۔ جو میرے جیسے آدمی کے لیے خاص طور پر جاذب نظر ہے۔ اس رحمن اکیڈمی "اسکول" کی ایک خاص صفت یہ ہے کہ یہاں ہندو مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ یہاں مسلم بچوں کے ساتھ ہندو بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس اسکول میں اردو زبان لازمی ہے اور ہندو بچے بھی شوق کے ساتھ اردو پڑھتے ہیں۔ ان کے والدین اس پر نہایت خوش ہیں۔ یہاں پڑھنے والے ہندو بچوں کی تعداد اس وقت تقریباً پچاس ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ تعلیمی ادارہ وہ کام کر رہا ہے جو قومی یکجہتی (نیشنل انٹیگریشن) کے معاملے میں بہت اہم ہے۔ یعنی مشترک زبان۔ جس ملک کی قومی زبان ایک ہو وہاں قومی یکجہتی اپنے آپ قائم ہو جاتی ہے۔ جیسے جاپان۔ جاپانیوں کی زبان ایک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جاپان میں کسی مزید کوشش کے بغیر قومی یکجہتی اپنے آپ قائم ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader