Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ہفتہ بہار میں

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

جناب مولانا محمد مطلوب (گیا) اور محمد اکرام الدین صاحبان اس سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کو الرسالہ نہیں ملا تھا تو ہمارا حال یہ تھا کہ ہمارے سینے میں دوسروں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکتی رہتی تھی۔ میرے غصہ کا حال یہ تھا کہ اگر کوئی مجھے ایک گالی دے تو میں اسے دس گالی دوں اگر کوئی مجھے ایک ڈنڈا مارے تو میں اس کو دس ڈنڈے ماروں۔ اسی کو میں اپنے لیے کمال سمجھتا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہی بہادری ہے اور ایسا نہ کرنا بزدلی ہے۔ مگر الرسالہ کے مطالعے سے میرے سینے میں حسد و انتقام کی بھڑکتی ہوئی آگ بجھ گئی۔ مجھے یہ تجربہ ہوا کہ زندگی دوسروں سے محبت کرنے کا نام ہے، نہ کہ ان سے نفرت کرنے کا نام۔ 3 نومبر کو ہم لوگ مدرسہ حسینیہ بیلاوڑہ پہنچے۔ یہاں لوگوں سے ملاقات ہوئی یہ مدرسہ اس علاقے میں تعلیم پھیلانے کا کام کر رہا ہے۔ مدرسہ کے پر امن تعلیمی ماحول کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تعلیم ہی احیاء ملت کے کام کا آغاز ہے۔ جب تک تعلیم لوگوں کے اندر عام نہ ہو جائے دوسرا کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا۔ قوم کو تعلیم یافتہ بنائے بغیر دوسرے دوسرے ایشو پر لوگوں کو اٹھانے کی کوشش کرنا صرف شخصی مقبولیت کا ذریعہ ہے، وہ ملت کی تعمیر کا ذریعہ نہیں۔ جناب عبد المجید صاحب (70 سال) بتیا کی ایک خاص شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی واقعات بتائے۔ 1942 میں وہ ندوہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ جب کوئٹ انڈیا کی تحریک شروع ہوئی تو پر جوش لوگوں نے ریل کی پٹریاں اکھاڑ دیں۔ ٹرینوں کی آمد ورفت رک گئی۔ انہوں نے بتایا کہ میں اور چند دوسرے طلباء لکھنؤ سے پیدل چل کر بتیا پہنچے، اس سفر میں تقریباً ایک ماہ لگ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سفر کے دوران جس گاؤں میں بھی ہم لوگ پہنچے وہاں ہم لوگ عزت کے ساتھ ٹھہرائے گئے۔ وہ لوگ کھانے پینے کا انتظام کرتے اور کئی کئی دن تک روکتے۔ اسی بنا پر یہ سفر اتنا لمبا ہو گیا۔ 3 نومبر کو جمعہ کا دن تھا۔ بتیا کی جنگی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ وسیع مسجد مکمل طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page