ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
بھری ہوئی تھی۔ یہاں جمعہ سے پہلے آدھ گھنٹہ کا خطاب کیا۔ اس خطاب کے لیے میں نے ایک حدیث کا انتخاب کیا۔ وہ یہ کہ : اَلْمَسَاجِدُ بُيُوتُ الْمُتَّقِينَ ( مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 34610)۔ یعنی، مسجدیں متقیوں کے گھر ہیں۔ میں نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسجد تقویٰ کی تربیت کا مرکز ہے۔ مسجد کے اعمال ان صفات کو پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں۔ اذان سے لے کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ تک، اور باجماعت نماز کی ادائیگی تک نماز کا ہر جزء ، متقیانہ زندگی کی تیاری ہے۔ نماز جمعہ کے بعد مولانا علی احمد ندوی (82 سال) کی رہائش گاہ پر ہم لوگ اکٹھا ہوئے۔ دوپہر کا کھانا یہیں کھایا گیا۔ مولاناعلی احمد ندوی 1939 دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے قدیم ندوہ کو دیکھا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ 1939ء کے ندوہ اور آج کے ندوہ میں کیا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ندوہ میں تقریباً 500 طلباء کی تعداد ہوتی تھی۔ عمارتیں بھی بہت کم تھیں۔ لیکن اب میں جب ندوہ گیا تھا تو میں نے دیکھا کہ وہاں بہت زیادہ ترقی ہو چکی ہے۔ اب طلباء کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے۔ کثرت سے عمارتیں بن گئی ہیں۔ بہت سے نئے نئے شعبے کھل گئے ہیں، جو شاندار عمارتوں میں قائم ہیں۔ قدیم ندوہ کے مقابلے میں آج ندوہ کم از کم دس گنا زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ میں نے سوچا کہ 1947 کے بعد مسلمانوں کے تمام لکھنے والے اور بولنے والے ایک ہی پیغام مسلمانوں کو دے رہے تھے۔ اور وہ یہ کہ اس ملک میں مسلمانوں کے لیے دوسرا اسپین بنایا جا رہا ہے۔ یہاں ان کی شناخت مٹائی جارہی ہے، وغیرہ۔ مگر عملاً صورت حال اس کے بالکل برعکس تھی۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ تقسیم سے پہلے اس وقت کے لیڈروں نے مسلمانوں کو یہ خبر دی تھی کہ غیر منقسم ہندوستان میں ان کا کوئی مستقبل نہ ہوگا۔ لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ تقسیم کے باوجود ہندوستان کے مسلمان تقریباً ہر اعتبار سے پاکستان سے زیادہ بہتر ہیں حتی کہ مسجد اور مدرسہ کے اعتبار سے بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader