مسلمانوں کی تعلیمی ضرورت
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کی تعلیمی ضرورت عام طور پر یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ مدرسے کی تعلیم مسلمانوں کی پوری ملی ضرورت کے لیے کافی نہیں۔ مسلمانوں کے لیے اس کے سوا ایک اور متوازن تعلیمی نظام درکار ہے۔ اس فکر کے لوگوں کے نزدیک موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ملی احیا کے لیے اس قسم کا متوازی نظام ضروری ہے۔ ایک مسلم دانشور نے اس متوازی نظام کو ارتقائی نظامِ تعلیم (progressive (educational system کا نام دیا ہے۔ راقم الحروف کے نزدیک مدارس کا نظام بنیادی طور پر بالکل درست ہے۔ جس مقصد کے لیے یہ نظام بنایا گیا تھا، اس مقصد کو وہ بڑی حد تک پورا کر رہا ہے۔ مدارس کے موجودہ نظام میں کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں، البتہ مدارس کے موجودہ نظام میں ایک اصلاح کی ضرورت یقینی ہے۔ اس اصلاح کا تعلق مزاج سے ہے۔ اس کو ایک لفظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کھلے پن (openness) کا مزاج پیدا کرنا۔ مسلمانوں کی دوسری ضرورت وہ ہے، جس کو ایک حدیثِ رسول میں بصیرتِ زمانہ‘ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361) کہا گیا ہے، یعنی زمانہ حاضر سے واقفیت حاصل کرنا۔ اس معاملے میں مسلم اسکول، مسلم کالج اور مسلم یونیورسٹی کی صورت میں جو ماڈل اختیار کیا گیا، نتیجہ بتاتا ہے کہ وہ درست ماڈل نہ تھا۔ راقم الحروف کے نزدیک اس معاملے میں وہ درست ماڈل ہے، جو مسیحی حضرات نے اختیار کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، مسیحی حضرات نے بڑی تعداد میں تعلیمی ادارے کھولے ہیں، مگر وہ اپنے تعلیمی اداروں کو کرسچن اسکول، کرسچن کالج اور کرسچن یونیورسٹی نہیں قرار دیتے ۔ وہ انھیں اسی قسم کا سیکولر تعلیمی ادارہ قرار دیتے ہیں جیسے کہ دوسرے سیکولر ادارے ہیں۔ اس معاملے میں درست طریقہ یہ ہے کہ ہر مسلم خاندان اپنے بچوں کے اندر اسلامی ذہن پیدا کرے، ہر مسلم گھر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader