Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

انفارمل ایجوکیشن کا مرکز بن جائے اور جہاں تک عصری تعلیم کی بات ہے، مسلم نو جوانوں کو اس طرح اعلیٰ سیکولر تعلیم دلائی جائے، جیسا کہ ملک کے دوسرے نو جوان کر رہے ہیں۔ دور صحابہ کے طرز کے مدرسے تعلیمات اسلامی کا ایک ادارہ قائم کرنے کی ضرورت سر آرتھر کیتھ (1955-1866) نے مصر کی قدیم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے،”مصر کو مسلمانوں کی تلوار نے فتح نہیں کیا بلکہ قرآن نے فتح کیا۔“ The Egyptians were conquered not by the sword, but by the Koran. (Sir Arthur, A New theory of Human Evolution, London, p,303) یہ یہی بات ایشیا اور افریقہ کے اس پورے خطہ کے لیے صحیح ہے جس کو آج ہم اسلامی دنیا کے نام سے جانتے ہیں۔ ایسا کیوں کر ہوا کہ یہ ساری قومیں نہ صرف اپنا مذہب بلکہ زبان تک بدل کر اسلامی برادری میں شامل ہو جائیں۔ جواب یہ ہے کہ مدرسوں کے ذریعہ۔ دور اول کے مسلمان عرب سے نکل کر اطراف کے تمام ملکوں میں پھیل گئے۔ انہوں نے اپنی اسلامی مہم کے مرکز کے طور پر جگہ جگہ اسلامی مدرسے قائم کیے ۔ ان مدرسوں میں لوگوں کو عربی زبان سکھائی جاتی تھی اور قرآن وحدیث پڑھایا جاتا تھا۔ ان مدرسوں سے جو لوگ پڑھ کر نکلتے، وہ اپنی اپنی بستیوں میں جا کر دوبارہ اسی قسم کے ادارے قائم کرتے۔ مدرسوں کو بنیاد بنا کر کام کرنے کا یہی طریقہ تھا جس نے ایک سو برس کے اندر اندر اس وقت کی آباد دنیا کے بڑے حصے کے مذہب، تہذیب اور زبان کو بدل ڈالا۔ قرآن ایک دائمی معجزہ ہے۔ خالق کائنات نے اس کے ذریعے اپنے بندوں سے کلام کیا ہے۔ وہ اس دنیا میں خدا اور بندہ کا مقام اتصال ہے، وہ دلوں کو گرماتا ہے اور شعور کو بیدار کرتا ہے۔ اس کے اعلیٰ مضامین اور اس کا آسمانی ادب اتنا اثر انگیز ہے کہ جو شخص بھی قرآن کو سمجھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page