الجامعۃ الاسلامیہ
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے میرے پروگرام کی قطعی اطلاع الجامعة الاسلامیۃ (مدینہ) کو نہیں دی جا سکی تھی۔ میری روانگی کے بعد 29 فروری کی دوپہر کو جامعہ کے نام دہلی سے ٹیلكس کیا گیا جب کہ اسی دن شام کو میں مدینہ پہنچنے والا تھا۔ ظہران اور ریاض ہوتا ہوا مدینہ ایر پورٹ پر پہنچا تو جامعہ کا نمائندہ وہاں معاونت کے لیے موجود تھا۔ موجودہ زمانے میں مواصلات کی ترقی نے انسان کے لیے کس قدر آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کے باوجود انسان خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔ مدینہ ائیر پورٹ سے ہم الجامعة الاسلامیۃ کے نمائندہ کے ساتھ چلے۔ یہاں تک کہ ہم لوگ فندق النخیل میں پہنچا دیے گئے۔ یہاں ہمارا قیام کمرہ نمبر 1901 اور 902 میں تھا۔ اگلے دن ہم الجامعة الاسلامیۃ لے جائے گئے۔ وہاں رئیس الجامعة دکتور عبد اللہ صالح العبید اور دوسرے ذمہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ ذمہ داروں کے مشورے کے بعد محاضرات کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔ پروگرام کی تفصیل اگلے صفحہ پر موجود ہے۔ مدینہ کا یہ سفر الجامعة الاسلامیۃ (مدینہ منورہ) کی دعوت پر ہوا۔ جمادی الاول 1404ھ میں جامعہ میں المو تمر الثانی للدعوۃ الاسلامیہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں دنیا کے مختلف حصوں سے دعاۃ اور اہل علم بلائے گئے تھے۔ مجھے بھی اس موتمر میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ مطبوعہ پروگرام میں میرا نام شامل کیا جا چکا تھا۔ مگر اس وقت میں بعض اسباب کی بنا پر سفر نہ کر سکا۔ تاہم جامعہ مجھ کو بلانا چاہتی تھی۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے ایک ہفتہ کا مستقل پروگرام بنایا جس میں جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ سے ملاقاتیں تھیں اور ہر روز شام کو جامعہ میں میرا ایک محاضرہ (لکچر) رکھا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت یہ سفر ہوا۔ 2 مارچ کو جامعہ کے بڑے ہال میں پہلا محاضرہ تھا۔ اصل محاضرہ عربی میں تھا اور اس کا موضوع تھا: التضامن والدعوۃ الاسلامیۃ۔ وسیع ہال بھرا ہوا تھا۔ ابتدائی کارروائی کے بعد میں نے مقالے کے چند صفحات پڑھے اور پھر یہ کہہ کر اس کو مولانا صفی احمد صاحب کو دے دیا اور انہوں نے بقیہ صفحات پڑھ کر مقالہ کو مکمل کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader